google-site-verification: google1333cc5cf8c91f7c.html تعلیم ، معلومات اور تفریح ایک ساتھ www.khairkhabar.com: AJJ KA KALAM AJJ KA KALAM

Search...

Showing posts with label AJJ KA KALAM. Show all posts
Showing posts with label AJJ KA KALAM. Show all posts

Thursday, 22 October 2026

Tuesday, 20 October 2026

چند سوالات، چند جوابات

سوالات اور ان کے جوابات 
پہلے ان سوالات کی فہرست پر نظر ڈالتے ہیں
اس وقت پاکستانی ڈایسپورا کہاں کہاں ہے، اور کل پاکستانی تارکین کی موجودہ تعداد کیا ہے؟
انڈسٹریلائزیشن کے آغاز سے سستی لیبر کن کن ملکوں سے میسر رہی ہے اور کن کن ممالک نے سستی لیبر کی وجہ سے کن کن ممالک میں اپنی انڈسٹری شفٹ کرنا شروع کی؟
درج بالا سوال کی روشنی میں یہ تجزیہ بھی درکار ہے کہ سستے مزدور کی طرح سستا ٹیچر بھی پاکستان میں میسر ہے لیکن اس سستے ٹیچر کی تلاش نہ ہونے کے برابر رہی ہے،سوائے پاک ترک سکولنگ کی نیم دلانہ کوشش کے کہ جسے شاید بھاری پتھر سمجھ کر واپس رکھ دیا گیا ہو. کیمرج نظام اس کے برعکس ہے وہ سرمایہ لانے کے بجائے سرمایا لے جانے کا باعث ہے. کیا پاکستان میں اس طرح کی انویسٹمنٹ کی مستقبل میں گنجائش ہے یا پھر سیکورٹی ناکامی کے ڈر سے یہ میدان خالی رہے گا؟
پاکستانی ٹیچرز موجودہ حالات میں آن لائن ٹیچنگ میں کتنی صلاحیت کے حامل ہو سکتے ہیں؟
درج بالا سوالات کے جوابات
یہ وہ سوال ہے جو 3 معیشتوں کو جوڑتا ہے - *مزدور، ٹیچر، اور سرمایہ*۔ اسے ٹکڑوں میں دیکھتے ہیں۔

1. پاکستانی ڈایسپورا کہاں اور کتنا؟

کل تعداد: *9 سے 11 ملین* پاکستانی پاسپورٹ / نژاد باہر ہیں۔ یہ پاکستان کا 5واں بڑا صوبہ ہے۔ حکومت اسے صرف "ترسیلات مشین" سمجھتی رہی، حالانکہ 2024 میں $34.6 ارب اور FY26 میں ریکارڈ *$41.6 ارب* بھیجے۔

*نقشہ:*
- *خلیج اور مشرق وسطیٰ - 60%:* سعودی عرب 2.6 ملین (سب سے بڑا)، متحدہ عرب امارات 1.6 ملین، باقی GCC ملا کر 4.4 ملین۔ یہ "گردشی مزدور" ہے - 3 سال کام، چھٹی، واپس۔
- *یورپ - 25%:* برطانیہ 1.6 ملین (سب سے پرانا، 1960 سے)، یورپ شینگن 0.8 ملین (اٹلی، سپین، جرمنی، یونان میں نئے مزدور)
- *شمالی امریکہ - 7%:* امریکہ 0.6 ملین، کینیڈا 0.3 ملین - یہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی والا طبقہ
- *ایشیا پیسیفک - 2%:* آسٹریلیا، ملائیشیا

2025 کی رپورٹ (CIMRAD) کے مطابق اب 92% اب بھی خلیج جا رہے ہیں، مگر ترسیلات کا بڑا حصہ اب امریکہ، برطانیہ سے آ رہا ہے - یعنی ہنر مند ہجرت بڑھ رہی ہے۔

2. سستی لیبر سے انڈسٹری کہاں کہاں شفٹ ہوئی؟ - 4 لہریں

*لہر 1 (1960-70):* امریکہ سے میکسیکو، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا۔ ماڈل تھا Maquiladora - سرحد کے پار فیکٹری، امریکہ میں سامان۔ جنرل الیکٹرک پہلا علمبردار۔

*لہر 2 (1980-2000):* میکسیکو سے چین۔ چین نے دیا: نہ لیبر قانون، نہ ماحولیاتی قانون، نہ کرنسی کا اتار، زمین مفت، بجلی سستی، 10 لاکھ والا شہر جو ایک ہی چیز بنائے (جوتا، بٹن)۔ ایپل، ڈیل، نائکی سب چین گئے۔

*لہر 3 (2000-2015):* فیکٹری سے دماغ۔ بھارت، فلپائن۔ کال سینٹر، سافٹ ویئر، اکاؤنٹنگ۔ وجہ انٹرنیٹ سستا، انگریزی بولنے والا گریجویٹ بھارت میں $300 میں، امریکہ میں $3000 میں۔

*لہر 4 (2018 سے آج):* چین مہنگا ہو گیا (Foxconn میں ہڑتال)، تو چین سے ویتنام، تھائی لینڈ، بھارت، میکسیکو، انڈونیشیا۔ جوتا، کپڑا پہلے نکلا، اب موبائل اور گاڑی آہستہ آہستہ۔

*خلاصہ:* جہاں مزدور سستا + بجلی سستی + ریاست وفادار، وہاں فیکٹری گئی۔

3. سستا ٹیچر - سستے مزدور سے بھی سستا، مگر کوئی لینے نہیں آیا، کیوں؟

یہ آپ کا سب سے تیز سوال ہے۔

پاکستان میں ایک اچھا O/A Level کا ٹیچر *800 سے 2000 روپے فی گھنٹہ* ( $3-7) میں دستیاب ہے۔ برطانیہ میں یہی ٹیچر $40-60 میں۔ یعنی *80% سستا*۔ مزدور میں اتنا فرق نہیں جتنا ٹیچر میں ہے۔

پھر بھی کوئی فیکٹری کی طرح "ٹیچنگ فیکٹری" نہیں لگی۔ اس کی 3 وجوہات:

*الف) پاک ترک ماڈل کی ناکامی - کیس اسٹڈی:*
28 سکول، 12 ہزار طالب علم، 100% انگریزی، سائنس اولمپیاڈ میں گولڈ میڈل۔ سرمایہ ترکی سے آیا، ٹیچر پاکستانی-ترک مکس۔ 2016 کے بعد سیاسی دباؤ پر اسے "بھاری پتھر" سمجھ کر واپس رکھ دیا گیا، عملہ نکالا، بورڈ بدلا۔ سرمایہ کار کو پیغام گیا: پاکستان میں تعلیم میں سرمایہ محفوظ نہیں، کل کو کسی اور ملک کے کہنے پر بند ہو سکتا ہے۔ فیکٹری میں مشین ضبط ہو تو بیچی جا سکتی ہے، سکول بند ہو تو ساکھ ختم۔

*ب) کیمرج نظام اس کے الٹ ہے - سرمایہ لانے کے بجائے لے جانے والا:*
آج پاکستان میں 3 لاکھ سے زیادہ بچے O/A Level میں ہیں۔ ایک بچہ اوسط 4 مضامین دیتا ہے، فی مضمون فیس £100-120 برطانیہ جاتی ہے۔ صرف امتحانی فیس سے *$35-40 ملین ہر سال* برطانیہ جاتا ہے۔ کتابیں، ٹریننگ، یونیفارم سب درآمد۔ 
یعنی مقامی ٹیچر سستا، مگر سرٹیفکیٹ مہنگا اور باہر کا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کپاس پاکستان کی، کپڑا مانچسٹر کا۔ تعلیمی نوآبادیات۔

*ج) سیکورٹی کا بہانہ نہیں، اصل مسئلہ پالیسی کا:*
فیکٹری کو زمین، گیس، پورٹ، پولیس چاہیے - سیکورٹی رسک زیادہ۔ سکول کو صرف کمرہ، انٹرنیٹ، بچہ چاہیے۔ رسک کم۔ مگر پاکستان نے Education کو SEZ (اسپیشل اکنامک زون) کبھی نہیں بنایا۔ کوئی انشورنس نہیں، کوئی 10 سالہ ٹیکس چھوٹ نہیں جیسی فیکٹری کو دی۔ اس لیے سرمایہ دار نے کہا: دبئی میں انٹرنیشنل سکول کھولوں، فیس $10,000، ٹیچر پاکستانی $1000 میں، منافع محفوظ۔ پاکستان میں کیوں رسک لوں؟

*کیا مستقبل میں گنجائش ہے؟*
ہاں، مگر ماڈل بدلنا ہوگا:
1.  *فزیکل سکول نہیں، ہائبرڈ کیمپس:* سرمایہ دار دبئی/لندن میں برانڈ رکھے، ٹیچنگ رسالپور/لاہور/اسلام آباد سے آن لائن۔ بچہ مقامی، ٹیچر مقامی، سرٹیفکیٹ بین الاقوامی مگر سستا۔
2.  *Education SEZ:* جیسے راشد نصیم نے کہا، اگر حکومت 5 شہروں میں "ایجوکیشن انکلیو" بنائے جہاں غیر ملکی بورڈ کو 10 سال کی ضمانت، تو پاک ترک جیسا دوسرا ماڈل آ سکتا ہے، مگر اب قطر، ملائیشیا، ترکی کے ساتھ، اکیلے ترکی نہیں۔
3.  ورنہ یہ میدان خالی رہے گا، اور کیمرج ہر سال $40 ملین لے جاتا رہے گا۔

4. پاکستانی ٹیچر آن لائن میں کتنا قابل؟

بہت زیادہ، اور ڈیٹا یہی کہتا ہے:

- *ریٹ:* لوکل طالب علم 800-2000 روپے/گھنٹہ، خلیجی (سعودی، یو اے ای) 1200-3000، برطانیہ/امریکہ 2000-5000 روپے ($10-18)۔ یعنی ایک ٹیچر اگر 4 گھنٹے خلیجی بچوں کو پڑھائے تو 1.5 لاکھ ماہانہ، جو سرکاری ٹیچر کی تنخواہ سے 3 گنا۔
- *ڈیمانڈ:* سب سے زیادہ - English Speaking (10/10)، Math (9/10)، Quran+Tajweed (8/10)، IELTS, Coding (8/10)۔ یہی وہ مضامین ہیں جہاں پاکستانی ٹیچر کا لہجہ اور قیمت دونوں چلتے ہیں۔
- *صلاحیت:* پاکستان میں 1.5 ملین گریجویٹ ہر سال، 60% انگریزی پڑھ سکتا ہے۔ لیپ ٹاپ + 10 ایم بی انٹرنیٹ + Canva + Zoom = سکول۔ اسٹارٹ اپ لاگت 10-60 ہزار۔

مسئلہ صرف ایک: ہم ٹیچر کو مزدور سمجھتے ہیں، نالج ورکر نہیں۔ مزدور کو ہم نے برآمد کیا (خلیج)، ٹیچر کو ہم نے برآمد نہیں کیا، بلکہ اس کے اوپر کیمرج کا ٹھپہ لگوا کر اسے مہنگا کر دیا۔۔

Sunday, 18 October 2026

زراعت، ملازمت اور صحت کا سوال

اگاکر کھانا بمقابلہ کما کر کھانا
زراعت یعنی اگاکر کھانا اور ملازمت یعنی کما کر کھانا دراصل ایسا سوال ہےکہ جس میں پوری تہذیب کی کہانی سمائی ہوئی ہے۔ اسے 7 حصوں میں سمجھتے ہیں۔
1. دنیا کے بڑے زرعی رقبے والے ممالک کون؟
   ورلڈ بینک کے مطابق کل زرعی زمین (قابل کاشت + چراگاہ) میں ٹاپ 10:
1. *چین - 520 ملین ہیکٹر*
2. *امریکہ - 412 ملین ہیکٹر*
3. *آسٹریلیا - 363 ملین*
4. *برازیل - 222 ملین*
5. *روس - 215 ملین*
6. *قازقستان - 214 ملین*
7. *بھارت - 178 ملین*
8. *سعودی عرب - 173 ملین* (زیادہ تر چراگاہ)
9. *ارجنٹینا - 118 ملین*
10. *سوڈان - 112 ملین* 7903
اصل خوراک پیدا کرنے میں بھارت، امریکہ، چین ٹاپ ہیں کیونکہ ان کا فی ہیکٹر پیداوار زیادہ ہے۔
2. پچھلے 100 سال میں آبادی کہاں شفٹ ہوئی؟
یہی وہ شفٹ ہے جسے ہم "اگا کر کھانا سے کما کر کھانا" کہہ رہے ہیں۔
- *امریکہ:* 1900 میں 40% آبادی زراعت میں، آج 1.5-2%
- *یورپ:* 1900 میں 50-60%، آج 3% EU میں
- *چین:* 1978 میں 70% زراعت میں، آج 23%
- *بھارت:* 1951 میں 72%، آج 42-46%
- *پاکستان:* 1960 میں ∼65%، لیبر فورس سروے 2024-25 میں  
*شفٹ کہاں ہوئی؟*
1900-1960: زراعت سے صنعت (Factory worker)
1960-2000: صنعت سے سروسز (Clerk, teacher, bank)
2000-آج: سروسز سے غیر رسمی سروسز (دکاندار، رائیڈر، کال سینٹر) - خاص طور پر پاکستان/بھارت میں۔ ہم فیکٹری مرحلہ چھوڑ کر سیدھا دکان پر آ گئے۔
*ایشیا بمقابلہ مغرب کا تناسب آج:*
مغرب: 2-3% آبادی زراعت میں
ایشیا: 23% (چین) سے 42% (بھارت) سے 35% (پاکستان) - یعنی اب بھی 10 سے 20 گنا زیادہ۔
3. "اگا کر کھانے" بمقابلہ "کما کر کھانے" سے صحت پر کیا اثر پڑا؟
*اگا کر کھانے والا (Subsistence) پیٹرن:*
- خوراک تازہ، موسمی، فائبر زیادہ
- دن میں 10-15 ہزار قدم جسمانی مشقت
- آنتوں کا مائیکرو بایوم متنوع
- ذہنی تناؤ کم، نیند سورج کے ساتھ
*کما کر کھانے والا (Wage-Earner) پیٹرن:*
- خوراک پروسیسڈ، چینی، تیل، سفید آٹا - کیونکہ وقت نہیں
- بیٹھنے کا کام، 8-12 گھنٹے کرسی
- سرکیڈین ردم خراب - رات کو سکرین، صبح دیر سے اٹھنا
- نتیجہ: میٹابولک سنڈروم
اور یہیں سے اداروں میں کرپشن کا تعلق بنتا ہے۔ جب آپ کما کر کھاتے ہیں تو آپ کا انحصار تنخواہ، ٹھیکہ، پرمٹ، عدالت پر ہوتا ہے۔ ہر جگہ رشوت، سفارش۔ یہ دائمی ذہنی دباؤ (Chronic stress) کورٹیسول بڑھاتا ہے، جو بلڈ پریشر اور شوگر دونوں کا باپ ہے۔ اگانے والے کو بارش کی فکر ہوتی ہے، کمانے والے کو افسر کی۔
4. پاکستان 1747 تا 2000 میں یہ شفٹ کیسے ہوئی؟
- *1747-1849 (مغل / سکھ دور):* 85-90% زراعت میں۔ زمین جاگیر، لگان جنس میں۔
- *1849-1947 (انگریز):* نہری نظام (پنجاب کی 9 نہریں)۔ زراعت نقد آور ہوئی - کپاس، گندم برآمد۔ مگر زمین چند خاندانوں میں۔ 1901 میں 70% دیہی۔
- *1947-1970:* زرعی اصلاحات ناکام، پھر گرین ریوولوشن (1965-72) - ٹریکٹر، کھاد۔ پیداوار دگنی، مگر مزدور کم ہونے لگے۔
- *1970-2000:* بھٹو کی صنعت قومیائی، پھر ضیاء دور میں خلیج مزدوری، پھر 90s میں سروسز بوم۔ زراعت 60% سے گر کر 48% پر آ گئی۔
یعنی 250 سال میں 90% سے 48%۔
5. کما کر کھانے میں کون سی بیماریاں؟ ذیابیطس اور بلڈ پریشر
*ذیابیطس میں پاکستان کا رینک:*
IDF Atlas 2024-25 کے مطابق پاکستان میں *3 کروڑ 45 لاکھ* ذیابیطس کے مریض ہیں، دنیا میں تعداد میں *چوتھا (چین، بھارت، امریکہ کے بعد)*، لیکن شرح میں *دنیا میں پہلا - 31.4%* بالغ آبادی۔ یعنی ہر 3 میں سے 1۔ 2050 تک یہ 7 کروڑ ہو جائے گا اور پاکستان تیسرے نمبر پر آ جائے گا۔ 
*بلڈ پریشر:*
پاکستان میں 18 سال سے اوپر 52% افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار (National Diabetes Survey)۔ 70% کو پتہ ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فارما کی چاندی ہے - ذیابیطس + بلڈ پریشر + کولیسٹرول کی دوا ایک مریض زندگی بھر کھاتا ہے۔ ایک بار گاہک، ساری عمر گاہک۔
6. دوا ساز کمپنیاں تحقیق پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں؟
- *Funding Bias:* دنیا کی 70% غذائی و ادویاتی تحقیق فارما فنڈ کرتی ہے۔ جو دوا بکتی ہے اس پر تحقیق، جو مفت ہے (مثلاً بھوک کم رکھنا، پیدل چلنا) اس پر کوئی پیسہ نہیں۔
- *Guideline Capture:* ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے جلسے، جرنل، سیمینار فارما سپانسر کرتی ہے۔ بلڈ پریشر کی حد 140/90 سے 130/80 کر دو تو راتوں رات 1 ارب نئے مریض بن جاتے ہیں۔
- *Symptom Management:* جڑ (خوراک، نیند، تناؤ) کی بجائے علامت (شوگر کم کرو) پر دوا۔
*عام آدمی کیسے بچے؟ 3 سوال ہر دوا سے پہلے:*
1. کیا یہ دوا جڑ ٹھیک کرے گی یا نمبر؟
2. اس کا 5 سالہ ڈیٹا کیا ہے، 5 ہفتے کا نہیں؟
3. اگر میں خوراک / چال / نیند بدل دوں تو کیا یہی فائدہ مفت مل سکتا ہے؟
7. ہم فطرت کی طرف کیسے لوٹ سکتے ہیں؟ - واپسی کا راستہ
مکمل واپسی ممکن نہیں، توازن ممکن ہے۔
*ذاتی سطح پر (80/20 اصول):*
- *80% اگاؤ، 20% کماؤ:* گھر میں 4 گملے بھی ہوں - پودینہ، دھنیا، ٹماٹر۔ ہاتھ مٹی میں جائے گا تو دماغ ٹھیک ہوگا۔
- *کھانے کی ترتیب بدلیں:* پہلے سبزی / دہی، پھر دال / انڈہ / گوشت، آخر میں روٹی / چاول - IDF بھی یہی کہہ رہا ہے، شوگر سپائیک 40% کم۔
- *کما کر کھانا + اگا کر چلنا:* ہر 1 گھنٹہ کمانے کے بعد 5 منٹ چلنا، دھوپ میں۔
*معاشرتی سطح پر:*
پاکستان کو فیکٹری مرحلہ چھوڑنا نہیں چاہیے تھا۔ زراعت کو صنعت سے جوڑنا - کولڈ سٹوریج، فوڈ پروسیسنگ گاؤں میں۔ تاکہ نوجوان شہر میں رائیڈر بننے کی بجائے گاؤں میں ہی کما کر اگا سکے۔
نوٹ: میری رہائش رسالپور ضلع نوشہرہ ہے، یوں اس اعتبار سے اس علاقے اس مشغلے کے لیے بارہ ماہ کا چارٹ کچھ یوں بنے گا.
(خان زادہ خان )



Wednesday, 14 October 2026

چائےکا کل، آج اورآنے والا کل

چائے کی کہانی 
برصغیر میں چائے کی کہانی دوائی سے نشہ
 بننے کی کہانی ہے۔
 کب آئی؟
چائے کا پودا چین میں 4000 سال سے استعمال ہو رہا تھا، مگر ہندوستان میں 16ویں صدی تک چائے نہیں تھی۔ انگریزوں کو چین سے چائے خریدنی پڑتی تھی اور چین نے قیمت بڑھا دی۔
اس اجارہ داری کو توڑنے کے لیے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1832 میں آسام میں جنگلی چائے کے پودے ڈھونڈے اور باقاعدہ باغات لگائے۔ 1850 تک آسام اور دارجلنگ دنیا کے سب سے بڑے باغ بن گئے۔ 
 انگریز نے کیا چال چلی؟
مزے کی بات یہ ہے کہ 1900 تک ہندوستان دنیا کی سب سے زیادہ چائے پیدا کرتا تھا، لیکن 100% چائے برطانیہ برآمد ہوتی تھی، ہندوستانی پیتے ہی نہیں تھے۔ وہ اسے انگریزوں کا غلامی والا مشروب سمجھتے تھے۔
پھر 1900 کی عالمی کساد بازاری میں برآمد رک گئی، چائے کے گودام بھر گئے۔ تب برطانوی ملکیت والی Indian Tea Association نے ایک زبردست مارکیٹنگ مہم چلائی:
- فیکٹریوں، کپڑا ملوں اور کوئلہ کانوں میں "ٹی بریک" لازمی کر دیا، مزدوروں کو سستی یا مفت چائے دی گئی، اس کی نشہ آور خصوصیت نے باقی کام کر دیا
- ریلوے اسٹیشنوں پر کلہڑ میں چائے والے بٹھائے گئے
- 1917 میں حیدرآباد دکن میں تو نظام سے حکم جاری کرایا کہ شراب چھڑانے کے لیے "چائے نوشی" کو رواج دیا جائے 
ہندوستانیوں نے اس انگریزی چائے کو بدل دیا - مہنگی پتی کم، دودھ پانی زیادہ، اور الائچی ادرک لونگ ڈال کر کڑواہٹ چھپا دی۔ انگریز افسران شکایت کرتے تھے کہ یہ لوگ بہت زیادہ مصالحہ اور دودھ استعمال کرتے ہیں، لیکن یہی مصالحہ والی چائے آج کی "مسالہ چائے" بن گئی۔ 
 آج دنیا میں کہاں چائے نہیں پی جاتی؟*
تقریباً ہر ملک میں پی جاتی ہے، لیکن کچھ خطوں میں کلچر نہیں:
- مغربی افریقہ کے دیہی علاقے - وہاں زنگو بار چائے کی جگہ ہبسکس اور باؤباب کے مشروبات
- جنوبی امریکہ کے اندرونی حصے - وہاں یربا ماتے اور کوکا چائے کا رواج، کالی چائے نہیں
- اسکیمو/انویٹ علاقے - گرین لینڈ، شمالی کینیڈا - وہاں روایتی طور پر گرم پانی یا سیل کے خون کا مشروب
- امریکی سافٹ ڈرنک بیلٹ - امریکہ کے جنوبی ریاستوں میں آئس ٹی ہے، لیکن گرم چائے کا کلچر برطانیہ جیسا نہیں
. الم غلم استعمال سے بیماریاں:
اعتدال میں (2-3 کپ) فائدہ، زیادتی میں نقصان:
- *تیزابیت، GERD، سینے کی جلن:* کیفین اور ٹینن معدے کا تیزاب بڑھاتے ہیں، نچلے والو کو ڈھیلا کرتے ہیں
- *گردے کی پتھری:* کالی چائے میں آکسیلیٹ زیادہ، کیلشیم سے مل کر پتھری بنتی ہے
 نیند، بے چینی، بلڈ پریشر:* کیفین نشہ آور ہے، رات کو پینے سے نیند خراب
- خون کی کمی ٹینن پودوں والے آئرن کو جکڑ لیتا ہے، جذب نہیں ہونے دیتا*ہڈیوں کا بھربھرا پن اور فلورائیڈ پرانی پتی میں فلورائیڈ 10 سے 20 گنا زیادہ ہوتا ہے، زیادہ پینے سے ہڈیوں میں درد، فلوروسس
- *غذائی نالی کا کینسر:* 65 ڈگری سے زیادہ گرم چائے مسلسل پینے سے کینسر کا خطرہ "probably carcinogenic" قرار دیا گیا ہے
- *موٹاپا، فیٹی لیور:* دودھ چینی والی میٹھی چائے دن میں 5-6 بار پینے سے 
. طبی مزاج - طب یونانی و آیوروید میں:
- *مزاج:* گرم خشک، دوسرے درجے میں۔ سبز چائے سرد خشک کی طرف مائل۔
- سبز چائے میں کیٹیچن، کالی میں تھیافلاوین - اینٹی آکسیڈنٹ
- دودھ ڈالنے سے اس کا دل کے لیے فائدہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ کیسین EGCG کو جکڑ لیتا ہے
. کب پینی چاہیے، کب نہیں؟
پینے کی بہترین صورتیں:
- صبح ناشتہ کے 1 گھنٹہ بعد، ہلکی پھلکی، بغیر خالی پیٹ
- سردی، نزلہ میں ادرک الائچی والی قہوہ نما
- تھکاوٹ، سفر کے بعد ایک کپ - دماغ چوکس
- سبز چائے کھانے کے بعد نہیں، کھانے کے 45 منٹ بعد
کم یا بالکل نہ پئیں
- خالی پیٹ، رات 7 بجے کے بعد، حمل میں 2 کپ سے زیادہ نہیں
- تیزابیت، معدے کے السر، گردے کی پتھری کی ہسٹری ہو
- بچوں کو 5mg/kg سے زیادہ کیفین نہیں دینی چاہیے، یعنی 1 کپ سے زیادہ نہیں
- آئرن، تھائرائیڈ، اینٹی بائیوٹک دوا کے ساتھ - دوا کا اثر کم کر دیتی ہے
- بہت زیادہ گرم - 65 ڈگری سے نیچے ٹھنڈی کر کے پئیں 
 چائے کوئی نشہ نہیں، عادت ہے۔ اور عادتیں اس وقت چھوٹتی ہیں جب اس سے سستی، بہتر اور زیادہ فیشن ایبل چیز مل جائے۔ مستقبل میں 5 صورتوں میں انسان آہستہ آہستہ چائے چھوڑ سکتا ہے:
 موسمیاتی بحران - چائے خود ختم ہو جائے
آسام، دارجلنگ، کینیا کی چائے کو 15 سے 25 ڈگری اور بہت بارش چاہیے۔ 2023 سے ہی آسام میں پیداوار 20% گر چکی ہے۔
2050 تک اندازہ ہے کہ چائے اگانے کی 50% زمین ناقابل کاشت ہو جائے گی۔ جیسے قہوہ مہنگا ہو کر خاص مشروب بن گیا ہے، چائے بھی 500 روپے کپ والی لگژری بن جائے گی تو عام آدمی خود چھوڑ دے گا۔ اس کی جگہ مورنگا، ہبسکس، تلسی جیسے مقامی پودے جو 45 ڈگری میں بھی اگتے ہیں، لے لیں گے۔
 صحت کی تحریک - کیفین فری دنیا
دنیا پہلے ہی تمباکو سے کیفین کی طرف جا رہی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں Gen-Z میں Decaf اور Nootropic drinks کا ٹرینڈ ہے۔
جب ہر اسمارٹ واچ بتائے گی کہ "آپ نے کل 4 کپ چائے پی، آپ کی نیند 37 منٹ کم ہوئی، آئرن 12% کم جذب ہوا" تو لوگ چائے کو سگریٹ کی طرح دیکھنے لگیں گے۔ اس کی جگہ آئے گی:
- مشروم کافی، ایشوگندھا لیٹے - سکون دیتے ہیں، نیند نہیں اڑاتے
- الیکٹرولائٹ واٹر - وہی چائے والا سماجی وقفہ دے گا، بغیر کیفین کے
. پانی اور دودھ کا بحران:*

ایک کپ چائے = 30 لیٹر ورچوئل پانی (پودا اگانے سے دودھ تک)۔ پاکستان اور بھارت میں 2035 کے بعد میٹھے پانی کا شدید بحران متوقع ہے، دودھ کی پیداوار گر رہی ہے۔
جب گھر میں دودھ 500 روپے لیٹر ہو جائے گا تو لوگ کالی چائے پئیں گے، کالی کڑوی لگے گی، اور آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے۔ جیسے انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم میں دودھ کی قلت سے چائے ہلکی کر دی تھی۔
. کام کا انداز بدلنا - ٹی بریک ختم
چائے کو انگریزوں نے فیکٹری سسٹم کے لیے ایجاد کیا تھا - صبح 11 بجے ٹی بریک۔ 
مستقبل میں:
- ورک فرام ہوم میں ٹی بریک نہیں، سنیک بریک ہے
- AI اور روبوٹ فیکٹری میں مزدور ہی نہیں تو چائے کا وقفہ کس لیے؟
- جاپان کی طرح 5 منٹ کی اسٹریچنگ یا سانس کی مشقیں کمپنیاں لازمی کر دیں تو چائے کی سماجی ضرورت ختم
 ذائقہ اور شناخت کی بغاوت
برصغیر میں چائے 100 سال پرانی ہے، اس سے پہلے لسی، ستو، قہوہ، کشمیری کہوہ تھا۔
اب نوجوان نسل کہہ رہی ہے "یہ تو غلامی والا مشروب ہے"۔ بالکل جیسے افریقہ میں نوجوان کولونیل کافی چھوڑ کر مقامی سورغم بیئر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
جب سوشل میڈیا پر "چائے چھوڑو دیسی اپناؤ" ٹرینڈ آئے گا - ستو کا شربت، املی آلو بخارے کا پانی، جو کا قہوہ - جو سستا، ٹھنڈا اور شوگر فری بھی ہو، تو چائے فیشن سے نکل جائے گی۔
آخر میں کیسے چھوٹے گی؟ اچانک نہیں، تین مرحلوں میں
1.  پہلے میٹھی دودھ والی چائے کم - لوگ گرین ٹی پر آئیں گے
2.  پھر گرین ٹی بھی کم - ہربل انفیوژن پر آئیں گے
3.  آخر میں صرف رسم رہ جائے گی - مہمان کے لیے "چائے پوچھنا" جیسے آج حقہ پوچھنا صرف گاؤں میں رہ گیا ہے۔
*2. انگریز نے کیا چال چلی؟*
مزے کی بات یہ ہے کہ 1900 تک ہندوستان دنیا کی سب سے زیادہ چائے پیدا کرتا تھا، لیکن 100% چائے برطانیہ برآمد ہوتی تھی، ہندوستانی پیتے ہی نہیں تھے۔ وہ اسے انگریزوں کا غلامی والا مشروب سمجھتے تھے۔
پھر 1900 کی عالمی کساد بازاری میں برآمد رک گئی، چائے کے گودام بھر گئے۔ تب برطانوی ملکیت والی Indian Tea Association نے ایک زبردست مارکیٹنگ مہم چلائی:
- فیکٹریوں، کپڑا ملوں اور کوئلہ کانوں میں "ٹی بریک" لازمی کر دیا، مزدوروں کو سستی یا مفت چائے دی گئی، اس کی نشہ آور خصوصیت نے باقی کام کر دیا
- ریلوے اسٹیشنوں پر کلہڑ میں چائے والے بٹھائے گئے
- 1917 میں حیدرآباد دکن میں تو نظام سے حکم جاری کرایا کہ شراب چھڑانے کے لیے "چائے نوشی" کو رواج دیا جائے 
ہندوستانیوں نے اس انگریزی چائے کو بدل دیا - مہنگی پتی کم، دودھ پانی زیادہ، اور الائچی ادرک لونگ ڈال کر کڑواہٹ چھپا دی۔ انگریز افسران شکایت کرتے تھے کہ یہ لوگ بہت زیادہ مصالحہ اور دودھ استعمال کرتے ہیں، لیکن یہی مصالحہ والی چائے آج کی "مسالہ چائے" بن گئی۔ 
 آج دنیا میں کہاں چائے نہیں پی جاتی؟
تقریباً ہر ملک میں پی جاتی ہے، لیکن کچھ خطوں میں کلچر نہیں
- مغربی افریقہ کے دیہی علاقے - وہاں زنگو بار چائے کی جگہ ہبسکس اور باؤباب کے مشروبات
- جنوبی امریکہ کے اندرونی حصے - وہاں یربا ماتے اور کوکا چائے کا رواج، کالی چائے نہیں
- اسکیمو/انویٹ علاقے - گرین لینڈ، شمالی کینیڈا - وہاں روایتی طور پر گرم پانی یا سیل کے خون کا مشروب
- امریکی سافٹ ڈرنک بیلٹ - امریکہ کے جنوبی ریاستوں میں آئس ٹی ہے، لیکن گرم چائے کا کلچر برطانیہ جیسا نہیں
. الم غلم استعمال سے بیماریاں
اعتدال میں (2-3 کپ) فائدہ، زیادتی میں نقصان
- *تیزابیت، GERD، سینے کی جلن:* کیفین اور ٹینن معدے کا تیزاب بڑھاتے ہیں، نچلے والو کو ڈھیلا کرتے ہیں
- *گردے کی پتھری:* کالی چائے میں آکسیلیٹ زیادہ، کیلشیم سے مل کر پتھری بنتی ہے
- *نیند، بے چینی، بلڈ پریشر:* کیفین نشہ آور ہے، رات کو پینے سے نیند خراب
- *خون کی کمی:* ٹینن پودوں والے آئرن کو جکڑ لیتا ہے، جذب نہیں ہونے دیتا
- *ہڈیوں کا بھربھرا پن اور فلورائیڈ:* پرانی پتی میں فلورائیڈ 10 سے 20 گنا زیادہ ہوتا ہے، زیادہ پینے سے ہڈیوں میں درد، فلوروسس
- *غذائی نالی کا کینسر:* 65 ڈگری سے زیادہ گرم چائے مسلسل پینے سے کینسر کا خطرہ "probably carcinogenic" قرار دیا گیا ہے
موٹاپا، فیٹی لیور، دودھ چینی والی میٹھی چائے دن میں 5-6 بار پینے سے 
. طبی مزاج - طب یونانی و آیوروید میں
- *مزاج:* گرم خشک، دوسرے درجے میں۔ سبز چائے سرد خشک کی طرف مائل۔
- سبز چائے میں کیٹیچن، کالی میں تھیافلاوین - اینٹی آکسیڈنٹ
- دودھ ڈالنے سے اس کا دل کے لیے فائدہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ کیسین EGCG کو جکڑ لیتا ہے
 کب پینی چاہیے، کب نہیں؟*
*پینے کی بہترین صورتیں:*
- صبح ناشتہ کے 1 گھنٹہ بعد، ہلکی پھلکی، بغیر خالی پیٹ
- سردی، نزلہ میں ادرک الائچی والی قہوہ نما
- تھکاوٹ، سفر کے بعد ایک کپ - دماغ چوکس
- سبز چائے کھانے کے بعد نہیں، کھانے کے 45 منٹ بعد
*کم یا بالکل نہ پئیں:*
- خالی پیٹ، رات 7 بجے کے بعد، حمل میں 2 کپ سے زیادہ نہیں
- تیزابیت، معدے کے السر، گردے کی پتھری کی ہسٹری ہو
- بچوں کو 5mg/kg سے زیادہ کیفین نہیں دینی چاہیے، یعنی 1 کپ سے زیادہ نہیں
- آئرن، تھائرائیڈ، اینٹی بائیوٹک دوا کے ساتھ - دوا کا اثر کم کر دیتی ہے
- بہت زیادہ گرم - 65 ڈگری سے نیچے ٹھنڈی کر کے پئیں 
 چائے کوئی نشہ نہیں، عادت ہے۔ اور عادتیں اس وقت چھوٹتی ہیں جب اس سے سستی، بہتر اور زیادہ فیشن ایبل چیز مل جائے۔ مستقبل میں 5 صورتوں میں انسان آہستہ آہستہ چائے چھوڑ سکتا ہے:
*1. موسمیاتی بحران - چائے خود ختم ہو جائے:*
آسام، دارجلنگ، کینیا کی چائے کو 15 سے 25 ڈگری اور بہت بارش چاہیے۔ 2023 سے ہی آسام میں پیداوار 20% گر چکی ہے۔
2050 تک اندازہ ہے کہ چائے اگانے کی 50% زمین ناقابل کاشت ہو جائے گی۔ جیسے قہوہ مہنگا ہو کر خاص مشروب بن گیا ہے، چائے بھی 500 روپے کپ والی لگژری بن جائے گی تو عام آدمی خود چھوڑ دے گا۔ اس کی جگہ مورنگا، ہبسکس، تلسی جیسے مقامی پودے جو 45 ڈگری میں بھی اگتے ہیں، لے لیں گے. صحت کی تحریک - کیفین فری دنیای
دنیا پہلے ہی تمباکو سے کیفین کی طرف جا رہی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں Gen-Z میں Decaf اور Nootropic drinks کا ٹرینڈ ہے۔
جب ہر اسمارٹ واچ بتائے گی کہ "آپ نے کل 4 کپ چائے پی، آپ کی نیند 37 منٹ کم ہوئی، آئرن 12% کم جذب ہوا" تو لوگ چائے کو سگریٹ کی طرح دیکھنے لگیں گے۔ اس کی جگہ آئے گی:
- مشروم کافی، ایشوگندھا لیٹے - سکون دیتے ہیں، نیند نہیں اڑاتے
- الیکٹرولائٹ واٹر - وہی چائے والا سماجی وقفہ دے گا، بغیر کیفین کے
*3. پانی اور دودھ کا بحران:*
ایک کپ چائے = 30 لیٹر ورچوئل پانی (پودا اگانے سے دودھ تک)۔ پاکستان اور بھارت میں 2035 کے بعد میٹھے پانی کا شدید بحران متوقع ہے، دودھ کی پیداوار گر رہی ہے۔
جب گھر میں دودھ 500 روپے لیٹر ہو جائے گا تو لوگ کالی چائے پئیں گے، کالی کڑوی لگے گی، اور آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے۔ جیسے انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم میں دودھ کی قلت سے چائے ہلکی کر دی تھی۔
*4. کام کا انداز بدلنا - ٹی بریک ختم:*
چائے کو انگریزوں نے فیکٹری سسٹم کے لیے ایجاد کیا تھا - صبح 11 بجے ٹی بریک۔ 
مستقبل میں:
- ورک فرام ہوم میں ٹی بریک نہیں، سنیک بریک ہے
- AI اور روبوٹ فیکٹری میں مزدور ہی نہیں تو چائے کا وقفہ کس لیے؟
- جاپان کی طرح 5 منٹ کی اسٹریچنگ یا سانس کی مشقیں کمپنیاں لازمی کر دیں تو چائے کی سماجی ضرورت ختم
*5. ذائقہ اور شناخت کی بغاوت:*
برصغیر میں چائے 100 سال پرانی ہے، اس سے پہلے لسی، ستو، قہوہ، کشمیری کہوہ تھا۔

اب نوجوان نسل کہہ رہی ہے "یہ تو غلامی والا مشروب ہے"۔ بالکل جیسے افریقہ میں نوجوان کولونیل کافی چھوڑ کر مقامی سورغم بیئر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

جب سوشل میڈیا پر "چائے چھوڑو دیسی اپناؤ" ٹرینڈ آئے گا - ستو کا شربت، املی آلو بخارے کا پانی، جو کا قہوہ - جو سستا، ٹھنڈا اور شوگر فری بھی ہو، تو چائے فیشن سے نکل جائے گی۔
*آخر میں کیسے چھوٹے گی؟ اچانک نہیں، تین مرحلوں میں:*
1.  پہلے میٹھی دودھ والی چائے کم - لوگ گرین ٹی پر آئیں گے
2.  پھر گرین ٹی بھی کم - ہربل انفیوژن پر آئیں گے
3.  آخر میں صرف رسم رہ جائے گی - مہمان کے لیے "چائے پوچھنا" جیسے آج حقہ پوچھنا صرف گاؤں میں رہ گیا ہے۔
(خان زادہ خان)


Monday, 12 October 2026

قصبےاور ہجوم کی نفسیات کا فرق

 The Pearl سٹین بیک اپنے ناول
میں ایک قصبے کے متعلق لکھتا ہے
"A town is a thing like a colonial animal. A town has a nervous system and a head and shoulders and feet..."
یعنی قصبہ ایک کالونی جاندار ہے - جیسے جیلی فش۔ اس کا اعصابی نظام سست، اجتماعی، اور یادداشت والا ہے۔
اگر اسی استعارے کو ہجوم پر لگائیں تو فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ دونوں زندہ جسم ہیں، لیکن ایک کا نروس سسٹم پیراسیمپیتھیٹک ہے، دوسرے کا سیمپیتھیٹک۔
*1. قصبے کا اعصابی نظام - سٹین بیک والا:*
- *رفتار:* سست۔ خبر صبح چائے کے ہوٹل سے چلتی ہے، دوپہر تک گلی میں، شام تک پورے قصبے میں۔ جیسے جسم میں درد آہستہ پھیلتا ہے۔
- *یادداشت:* لمبی۔ قصبہ 20 سال پرانی دشمنی نہیں بھولتا۔ پرل میں جب کینو کو موتی ملتا ہے تو قصبے کو فوراً یاد آتا ہے کہ اس کا باپ بھی ایسے ہی لالچ میں مارا گیا تھا۔ یہ اجتماعی لاشعور ہے۔
- *ردعمل:* مدافعتی۔ قصبہ باہر کے خطرے کو اندر آنے سے روکتا ہے۔ سٹین بیک کہتا ہے "news came to town like a nervous shudder." قصبہ کانپتا ہے، پھر خود کو بند کر لیتا ہے۔
- *مرکز:* اس کا دماغ چرچ، بازار، اور بوڑھوں کی بیٹھک ہے۔ فیصلہ سوچ کر ہوتا ہے۔
یہ بالکل انسان کے پیراسیمپیتھیٹک نظام جیسا ہے - rest and digest، چیزوں کو ہضم کرنا، برداشت کرنا۔
*2. ہجوم کا اعصابی نظام:*
- *رفتار:* بجلی جیسی۔ قصبے میں خبر دنوں میں پھیلتی ہے، ہجوم میں سیکنڈوں میں۔ ایک ویڈیو، ایک نعرہ، اور پورا جسم ایک ساتھ جھٹکا کھاتا ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی کا ریفلیکس ہے، دماغ تک جانے کی ضرورت نہیں۔
- *یادداشت:* بہت چھوٹی۔ ہجوم کو کل کا وعدہ یاد نہیں، صرف اس لمحے کا جوش یاد ہے۔ سٹین بیک کے قصبے کو موتی کی قیمت یاد تھی، ہجوم کو صرف "لوٹ لو" یاد رہتا ہے۔
- *ردعمل:* جارحانہ۔ قصبہ دفاع کرتا ہے، ہجوم حملہ کرتا ہے۔ قصبے کا اعصابی نظام کہتا ہے "خطرہ ہے، چھپ جاؤ"، ہجوم کا کہتا ہے "خطرہ ہے، مار دو"۔
- *مرکز:* اس کا کوئی دماغ نہیں، صرف اسپائنل کارڈ ہے۔ ایک چیخ، ایک پتھر، اور پورا جسم اسی طرف دوڑتا ہے۔ لیڈر اس کا دماغ نہیں، اس کا ٹرگر ہے۔
یہ سیمپیتھیٹک نظام ہے - fight or flight۔
*3. دونوں کا موازنہ ایک ٹیبل میں:*
*قصبہ:* ایک بوڑھا آدمی ہے جو سب کچھ دیکھ کر آہ بھرتا ہے۔ اسے چوٹ لگے تو وہ سوجتا ہے، پھر آہستہ ٹھیک ہوتا ہے۔
*ہجوم:* ایک نوجوان ہے جسے مرگی کا دورہ پڑا ہے۔ اسے چوٹ لگے تو وہ پورے جسم کو مروڑ دیتا ہے، اور اس مروڑ میں خود کو بھی زخمی کر لیتا ہے۔
سٹین بیک نے پرل میں آخر میں یہی دکھایا - قصبے کا اعصابی نظام آخر میں کینو کو نگل جاتا ہے، اسے واپس غریب بنا دیتا ہے، لیکن بھی قصبہ باقی رہتا ہے۔
ہجوم کا اعصابی نظام اس کے برعکس ہے - وہ جس پر حملہ کرتا ہے اسے بھی جلا دیتا ہے، اور خود بھی جل کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہاں نہ قصبہ بچتا ہے، نہ ہجوم - صرف راکھ۔
اس ساری نفسیات کو سمجھنے کے لیے سمپیتھیٹک اور پیرا سمپیتھیٹک کو مزید جان لینا ضروری ہے
یہ دونوں آپ کے جسم کے اندر ایک ہی تار کے دو بٹن ہیں - ایک گاڑی کا ایکسیلیٹر، دوسرا بریک۔ دونوں آٹومیٹک ہیں، آپ سوچ کر نہیں چلاتے۔
*1. سمپیتھیٹک - جنگ یا بھاگ (Fight or Flight)*
جب خطرہ ہو تو یہ آن ہوتا ہے۔
مثال: آپ رات کو گلی میں جا رہے ہیں، سامنے کتا بھونکتا ہے۔
اس سیکنڈ میں جو ہوتا ہے وہ سمپیتھیٹک ہے:
- دل دھک دھک تیز - تاکہ خون ٹانگوں میں جائے
- آنکھوں کی پتلیاں کھل جانا - زیادہ دیکھ سکو
- منہ خشک - لعاب بند، کیونکہ ہاضمہ فضول ہے اب
- پسینہ آنا - جسم ٹھنڈا رہے دوڑنے کے لیے
- ہاتھ کانپنا - ایڈرینالین
یہ ہجوم والا نظام ہے۔ سوچ بند، ایکشن تیز۔
*2. پیراسیمپیتھیٹک - آرام اور ہضم (Rest and Digest)*
خطرہ ٹل جائے تو یہ آن ہوتا ہے۔
وہی مثال: کتا چلا گیا، آپ گھر آ کر چارپائی پر بیٹھے، پانی پیا۔
اب جو ہوتا ہے وہ پیراسیمپیتھیٹک ہے:
- دل آہستہ - اب بھاگنا نہیں
- لعاب واپس - منہ میں پانی آنا، بھوک لگنا
- آنتیں چلنا - کھانا ہضم ہونا
- نیند آنا - جسم کہتا ہے اب محفوظ ہو
یہ سٹین بیک کے قصبے والا نظام ہے۔ آہستہ، سوچنے والا، جوڑنے والا۔
*ایک ہی دن میں دونوں کی مثال:*
- صبح امتحان کا پرچہ دیکھ کر سمپیتھیٹک آن - ہاتھ ٹھنڈے، دل تیز
- شام کو دوستوں کے ساتھ چائے پیتے ہوئے پیراسیمپیتھیٹک آن - ہنسی، بھوک، سکون
ہجوم ہمیشہ سمپیتھیٹک پر رہتا ہے، اس لیے تھک کر گر جاتا ہے۔ قصبہ ہمیشہ پیراسیمپیتھیٹک پر رہتا ہے، اس لیے زندہ رہتا ہے۔
(خان زادہ خان )

 

Saturday, 10 October 2026

ہماری ہزاروں سال کی نیند اور بجلی کا تعلق

بجلی سے پہلے اور بجلی کے بعد کا انسان 

دنیا میں سب سے پہلے بجلی کہاں پہنچی؟
یہ سوال سنتے ہی ہمارے ذہن میں بلب آتا ہے، لیکن حقیقت میں بلب بعد میں آیا، بجلی پہلے آئی تھی۔ دنیا کا پہلا شہر جس کی گلیاں بجلی سے روشن ہوئیں وہ انگلینڈ کا شہر *گودالمنگ Godalming* تھا، 1881 میں۔ اس کے بعد امریکہ کا نیویارک۔ 1882 میں تھامس ایڈیسن نے نیویارک کے پرل اسٹریٹ میں پہلا پاور پلانٹ لگایا اور ایک ہی جھٹکے میں وال اسٹریٹ کی 400 عمارتوں میں 3000 بلب روشن کر دیے۔ لندن نے 1882 میں ہی اپنا پہلا پبلک پاور اسٹیشن ہولبورن ویاڈکٹ پر شروع کیا۔ پیرس تو 1878 سے ہی اپنے آپ کو "City of Lights" کہلوانے لگا تھا۔
اور برصغیر؟
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہت پیچھے تھے، لیکن ایسا نہیں۔ انگریز نے اپنی سہولت کے لیے ہمیں جلد ہی روشن کر دیا تھا۔
برصغیر میں سب سے پہلے بجلی *بمبئی (ممبئی)* میں آئی، 1882 میں، یعنی نیویارک کے ساتھ ساتھ۔ پھر *کلکتہ* میں 1899 میں پہلی تھرمل پاور کمپنی بنی۔ *لاہور* میں 1912 میں بجلی پہنچی اور ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ *کشمیر کے شہر سرینگر میں 1908 میں ہی محی الدین کی پن بجلی گھر سے بجلی آ گئی تھی* جو ایشیا کے پہلے پن بجلی گھروں میں سے ایک تھا۔ کراچی میں 1913 میں۔ ہمارے صوبے خیبر پختونخواہ کے شہر *ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں 1920 کی دہائی میں* بجلی پہنچی۔
اس سے پہلے انسان کیا کرتا تھا؟
اس سے پہلے انسان کا باس سورج تھا۔
ہزاروں سال کی روٹین ایک ہی تھی۔ سورج نکلا، انسان اٹھا۔ سورج ڈھلا، انسان اپنے ٹھکانے کو لوٹا۔ مغرب کے بعد چراغ جلتا بھی تو اس کی روشنی اتنی مدھم ہوتی تھی کہ اس میں صرف کہانی سنائی جا سکتی تھی، کتاب نہیں پڑھی جا سکتی تھی۔ سارا گاؤں اندھیرا چھانے سے پہلے کھانا کھا کر سو جاتا تھا۔ یہ قدرت کا سب سے سخت لاک ڈاؤن تھا جو روز لگتا تھا۔
ہم اسے غربت سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ تحفظ تھا۔
*اصل حادثہ کیا ہوا؟*
بجلی نے رات کو قتل نہیں کیا، رات کو دن بنا دیا۔
ہم نے سوچا ہم نے رات کو روشن کیا ہے، لیکن ہم نے رات کو ختم کر دیا ہے۔ انسان کی آنکھ میں ایک چھوٹا سا سینسر ہے جسے ipRGC کہتے ہیں۔ یہ اندھیرے کو دیکھ کر دماغ کو کہتا ہے کہ اب میلاٹونن Melatonin بناؤ، جو نیند کا ہارمون ہے۔ اور جب صبح کی سفید روشنی آتی ہے تو یہی سینسر کہتا ہے کورٹیسول Cortisol بناؤ، جاگنے کا ہارمون۔
بجلی نے اس سسٹم کو دھوکہ دے دیا۔
آج رات 11 بجے بھی ہمارے کمرے میں دوپہر جتنی روشنی ہے۔ موبائل کی نیلی روشنی دماغ کو بتا رہی ہے کہ ابھی دن ہے۔ تو دماغ میلاٹونن روک لیتا ہے۔ نیند آتی نہیں، نیند گہری نہیں ہوتی۔ اور جب نیند گہری نہیں ہوتی تو اسی نیند میں بننے والے دو سب سے اہم ہارمون - گروتھ ہارمون جو جسم کی مرمت کرتا ہے، اور سیروٹونن جو خوشی دیتا ہے - وہ نہیں بنتے۔

اسی لیے آج کا انسان تھکا ہوا، چڑچڑا اور اداس ہے۔ وہ 8 گھنٹے بستر پر گزار کر بھی فریش نہیں ہوتا۔ ہمارے دادا 6 گھنٹے سو کر ہل چلا لیتے تھے۔
قدیم انسان رات کو سوتا تھا اور خواب دیکھتا تھا۔ آج کا انسان رات کو جاگتا ہے اور سکرول کرتا ہے۔
ڈپریشن، اینزائٹی، موٹاپا، شوگر، دل کے امراض - ان سب کا ایک بڑا دروازہ وہی ہے جسے ہم ترقی کہتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اب رات کی شفٹ میں کام کرنے کو کینسر کے ممکنہ اسباب میں شمار کرتی ہے، کیونکہ یہ سرکیڈین رتھم Circadian Rhythm کے خلاف ہے۔
ہم نے بلب ایجاد کر کے فیکٹریوں کو 24 گھنٹے چلایا، لیکن بھول گئے کہ انسان فیکٹری نہیں، ایک حیاتیاتی مخلوق ہے۔ اس کا چارجر سورج ہے۔
*تو حل کیا ہے؟ اندھیرے میں واپس چلے جائیں؟*
نہیں۔ بجلی نعمت ہے، لیکن ہر نعمت کا ایک ادب ہوتا ہے۔
ہمیں رات کو رات سمجھنا سیکھنا ہوگا۔
1.  مغرب کے بعد تیز سفید LED کی جگہ مدھم زرد روشنی استعمال کریں۔
2.  سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل، لیپ ٹاپ بند - یہی اصل چراغ ہے جس نے ہماری نیند چرائی ہے۔
3.  بچوں کو بتائیں کہ رات جاگنا ماڈرن ہونا نہیں، اپنی فطرت سے جنگ کرنا ہے۔
گودالمنگ سے ممبئی تک بجلی کا سفر 140 سال میں پورا ہو گیا۔ لیکن انسان کو یہ سمجھنے میں شاید اگلے 140 سال لگیں گے کہ روشنی صرف آنکھوں سے نہیں دیکھی جاتی، روشنی سے بچنا بھی آنا چاہیے۔
بجلی نے گھر روشن کیے، اب ہمیں اپنے اندر کا اندھیرا واپس روشن کرنا ہے تاکہ ہم سو 
 سکیں۔
 (خان زادہ خان )
 *Man Before and After Electricity*
Where did electricity reach first in the world?
As soon as we hear this question, a light bulb comes to our mind, but in reality, the bulb came later, electricity came first. The first city in the world whose streets were lit by electricity was the English town of *Godalming, in 1881*. After that came New York in America. In 1882, Thomas Edison set up the first power plant on Pearl Street in New York and in a single moment lit up 3,000 bulbs in 400 buildings on Wall Street. London also started its first public power station at Holborn Viaduct in 1882. Paris had started calling itself the "City of Lights" as early as 1878.
And what about the subcontinent?
We think we were far behind, but that is not true. The British illuminated us quite early for their own convenience.
In the subcontinent, electricity first came to *Bombay (Mumbai) in 1882*, at the same time as New York. Then in *Calcutta in 1899*, the first thermal power company was established. Electricity reached *Lahore in 1912* and an amazing fact is that *in the Kashmiri city of Srinagar, electricity arrived as early as 1908 from the Mohra hydroelectric plant*, which was one of the first hydroelectric plants in Asia. In Karachi in 1913. In our province Khyber Pakhtunkhwa, electricity reached the cities of *Dera Ismail Khan and Bannu in the 1920s*.
What did man do before this?
Before this, man's boss was the sun.
The routine for thousands of years was the same. The sun rose, man got up. The sun set, man returned to his shelter. Even if a lamp was lit after sunset, its light was so dim that only a story could be told in it, a book could not be read. The whole village would eat and go to sleep before darkness fell. It was nature's strictest lockdown that was imposed every day.
We consider it poverty, although it was protection.
*What was the real accident?*
Electricity did not kill the night; it turned night into day.
We thought we illuminated the night, but we have ended the night. There is a small sensor in the human eye called ipRGC. Seeing darkness, it tells the brain to now produce Melatonin, which is the sleep hormone. And when the white light of morning comes, this same sensor says to produce Cortisol, the hormone for waking up.
Electricity has deceived this system.
Today, even at 11 pm, there is as much light in our rooms as at noon. The blue light of the mobile phone is telling the brain that it is still daytime. So the brain stops melatonin. Sleep does not come, sleep is not deep. And when sleep is not deep, the two most important hormones that are produced during that sleep - the growth hormone which repairs the body, and serotonin which gives happiness - are not produced.
That is why today's man is tired, irritable and sad. He does not feel fresh even after spending 8 hours in bed. Our grandfathers would plough the field after sleeping for 6 hours.
Ancient man used to sleep at night and dream. Today's man stays awake at night and scrolls.
Depression, anxiety, obesity, diabetes, heart diseases - a major gateway to all of them is what we call progress. The World Health Organization now counts working night shifts as a possible cause of cancer, because it is against the Circadian Rhythm.
We invented the bulb and ran factories for 24 hours, but we forgot that man is not a factory, he is a biological creature. His charger is the sun.
*So what is the solution? Should we go back into darkness?*
No. Electricity is a blessing, but every blessing has an etiquette.
We have to learn to treat night as night.
1. After sunset, use dim yellow light instead of bright white LEDs.
2. Turn off mobile, laptop one hour before sleeping - this is the real lamp that has stolen our sleep.
3. Tell children that staying awake at night is not being modern, it is fighting against your own nature.
The journey of electricity from Godalming to Mumbai was completed in 140 years. But it may take humans another 140 years to understand that light is not only to be seen with the eyes, one must also learn to avoid light.
Electricity illuminated our homes, now we have to illuminate the darkness inside us so that we can sleep.

(Khan Zada Khan)


Saturday, 3 October 2026

ڈاکٹر حمیداللہ کی شخصیت

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
 _(ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی یاد میں) _ 
میر تقی میر نے یہ شعر شاید ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیسے لوگوں کے لیے ہی کہا تھا۔ وہ لوگ جو دنیا سے بے نیاز، اپنے حال میں مست، صرف ایک دھن میں لگے ہوں۔
آپ نے جس مضمون کا ذکر کیا، وہ حکیم محمد سعید کی ڈائری سے تھا۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں کہ 1992 میں وزیر اعظم میاں نواز شریف فرانس کے دورے پر تھے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ڈاکٹر حمید اللہ سے ملنا ہے۔ سفارت خانے نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کسی سے نہیں ملتے۔ بڑی منت سماجت پر وہ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں ملنے گئے۔ اندر ایک چارپائی، ایک میز، اور فرش سے چھت تک کتابیں۔ ایک 85 سالہ بوڑھا، میلی سی شیروانی میں، جو 40 سال سے اسی ایک کمرے میں رہ رہا ہے۔ نہ شادی کی، نہ گھر بنایا، نہ بینک بیلنس۔
یہ تھے ڈاکٹر محمد حمید اللہ۔
*کون تھے؟*
19 فروری 1908 کو حیدرآباد دکن کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نانا حافظ قرآن، پرنانا 30 کتابوں کے مصنف۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی۔ پھر جرمنی کی بون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ، اور پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے دوسری ڈاکٹریٹ۔ 7 زبانوں میں لکھتے تھے، 22 زبانوں پر عبور تھا۔ تھائی زبان 84 سال کی عمر میں سیکھی۔
1948 میں جب ہندوستان نے حیدرآباد پر قبضہ کیا تو وہ لیگ آف نیشنز میں نظام کے وفد میں شامل تھے۔ انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور فرانس میں ایک "بے وطن" کی حیثیت سے رہنے لگے۔ فرانس نے شہریت کی پیشکش کی، انہوں نے کہا جب تک حیدرآباد کا مقدمہ اقوام متحدہ میں ہے، میں بے وطن رہوں گا۔ بعد میں پاکستان نے انہیں پاسپورٹ دیا اور وہ اسی پر ساری عمر گزار گئے۔
*کام کیا کیا؟*
ان کا نام مسلمانوں میں تین کاموں سے زندہ ہے:
*1. قرآن کا فرانسیسی ترجمہ:* 1959 میں پہلا ترجمہ جو ایک مسلمان عالم نے فرانسیسی میں کیا۔ آج تک اس کے 30 ایڈیشن اور 20 لاکھ سے زیادہ کاپیاں چھپ چکی ہیں۔ یہ واحد عالم ہیں جنہوں نے قرآن کا ترجمہ تین یورپی زبانوں - فرانسیسی، انگریزی اور جرمن میں کیا۔ 1939 میں سورہ فاتحہ کا ترجمہ 125 زبانوں میں کیا۔

*2. صحیفہ ہمام بن منبہ کی دریافت:* حدیث کی سب سے پرانی کتاب جو گم ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے دو قلمی نسخے دمشق اور برلن کی لائبریریوں سے ڈھونڈے۔ ثابت کیا کہ آج کی حدیث کی کتابیں ہوائی باتیں نہیں۔
*3. سیاسی دستاویزات:* "الوثائق السیاسیہ" - حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور کے 300 سے زیادہ سیاسی معاہدے۔ اور "مسلم کنڈکٹ آف اسٹیٹ" جو اسلامی بین الاقوامی قانون پر آج بھی دنیا میں پہلی کتاب مانی جاتی ہے۔
170 کتابیں، 1000 سے زیادہ مضامین۔
*بے ریائی اور رائلٹی:*
1985 میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز اور ایک کروڑ روپے انعام دیا۔ انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کیا اور کہا یہ رقم اسلام آباد کی اسلامک ریسرچ اکیڈمی کو دے دیں۔ ساری کتابوں کی رائلٹی ہمیشہ طلبہ اور اسلامک سینٹرز کو دیتے رہے۔ پیرس میں وہ فلیٹ بھی ان کا اپنا نہیں تھا، ایک مسجد کے اوپر کرائے کا کمرہ تھا جہاں وہ زمین پر سو کر تحقیق کرتے تھے۔
1996 میں بیمار ہوئے تو امریکہ میں اپنی بھتیجی کے پاس چلے گئے۔ 17 دسمبر 2002 کو فجر پڑھ کر سوئے اور پھر نہ اٹھے۔
وفاقی بورڈ نے اگر یہ مضمون نصاب سے نکال دیا ہے تو یہ صرف ایک مضمون نہیں نکالا، ایک آئینہ چھین لیا ہے۔ آج کا بچہ سمجھتا ہے کہ کامیابی امریکہ کی شہریت، بڑی گاڑی اور یوٹیوب فالوورز کا نام ہے۔ اسے بتانے والا کوئی نہیں کہ کامیابی اس ایک کمرے میں بھی ہے جہاں ایک شخص 50 سال تک بغیر شادی، بغیر پاسپورٹ کے صرف اس لیے زندہ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو درست ثابت کر سکے۔
میر نے سچ کہا تھا:
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
 مضمون کا عربی ترجمہ

*شخصية الدكتور حميد الله*
*أين يوجد مثل هؤلاء المنقطعين عن الدنيا*
_(في ذكرى الدكتور محمد حميد الله)_

كأن مير تقي مير قال هذا البيت لهؤلاء الناس أمثال الدكتور محمد حميد الله، أولئك الذين لا يبالون بالدنيا، مستغرقون في حالهم، منهمكون في همٍّ واحد.

أما المقال الذي ذكرتم، فهو من مذكرات الحكيم محمد سعيد. يكتب الحكيم أنه في عام 1992 كان رئيس الوزراء ميان نواز شريف في زيارة لفرنسا، فأبدى رغبته في لقاء الدكتور حميد الله. فقالت له السفارة إن الدكتور لا يقابل أحدا. وبعد إلحاح شديد ذهبوا للقائه في شقة صغيرة، فيها سرير وطاولة وكتب من الأرض إلى السقف. شيخ في الخامسة والثمانين، يلبس شيرواني متسخ، يعيش في نفس الغرفة منذ 40 سنة. لم يتزوج، ولم يبنِ بيتا، ولم يكن له رصيد في البنك.

هذا هو الدكتور محمد حميد الله.

*من هو؟*

ولد في 19 فبراير 1908 في أسرة علمية في حيدر آباد الدكن. جده حافظ للقرآن، وجد جده مؤلف لثلاثين كتابا. حصل على الماجستير والليسانس في الحقوق من الجامعة العثمانية، ثم الدكتوراه من جامعة بون بألمانيا، ودكتوراه ثانية من جامعة السوربون بباريس. كان يكتب بسبع لغات، ويتقن 22 لغة. تعلم اللغة التايلاندية وهو في الرابعة والثمانين من عمره.

في عام 1948 عندما احتلت الهند حيدر آباد، كان ضمن وفد النظام في عصبة الأمم. فرفض العودة وبقي في فرنسا بصفته "عديم الجنسية". عرضت عليه فرنسا الجنسية فقال: ما دامت قضية حيدر آباد في الأمم المتحدة فسأبقى بلا وطن. ثم منحته باكستان جواز سفر، وقضى عليه حياته كلها.

*ماذا فعل؟*

بقي اسمه حيا بين المسلمين بثلاثة أعمال:

*1. ترجمة القرآن إلى الفرنسية:* في عام 1959 قام بأول ترجمة قام بها عالم مسلم إلى الفرنسية. طبعت حتى اليوم 30 طبعة وأكثر من مليوني نسخة. وهو العالم الوحيد الذي ترجم القرآن إلى ثلاث لغات أوروبية - الفرنسية والإنجليزية والألمانية. وفي عام 1939 ترجم سورة الفاتحة إلى 125 لغة.

*2. اكتشاف صحيفة همام بن منبه:* وهي أقدم كتاب في الحديث كان مفقودا. وجد الدكتور نسختين مخطوطتين لها في مكتبتي دمشق وبرلين. وأثبت أن كتب الحديث اليوم ليست كلاما في الهواء.

*3. الوثائق السياسية:* كتاب "الوثائق السياسية" - أكثر من 300 معاهدة سياسية من عهد النبي صلى الله عليه وسلم والخلفاء الراشدين. وكتاب "مسلم كوندكت أوف ستيت" الذي لا يزال يعتبر أول كتاب في العالم عن القانون الدولي الإسلامي.

170 كتابا، وأكثر من 1000 مقال.

*الزهد والحقوق:*

في عام 1985 منحته حكومة باكستان هلال الامتياز ومبلغ عشرة ملايين روبية. فرفض استلام الجائزة وقال: أعطوا هذا المبلغ لأكاديمية البحوث الإسلامية في إسلام آباد. وكان يوزع كل حقوق كتبه دائما على الطلاب والمراكز الإسلامية. حتى الشقة التي في باريس لم تكن ملكه، بل كانت غرفة مستأجرة فوق مسجد كان ينام فيها على الأرض ويقوم بأبحاثه.

في عام 1996 مرض فذهب إلى ابنة أخيه في أمريكا. وفي 17 ديسمبر 2002 نام بعد صلاة الفجر ولم يستيقظ.

إذا كان المجلس الفيدرالي قد حذف هذا المقال من المنهج، فإنه لم يحذف مجرد مقال، بل انتزع مرآة. يظن طفل اليوم أن النجاح هو جنسية أمريكا وسيارة فاخرة ومتابعون على يوتيوب. ولا يوجد من يخبره أن النجاح يكمن أيضا في تلك الغرفة الواحدة حيث عاش رجل 50 سنة بلا زواج وبلا جواز سفر فقط ليثبت صحة حديث واحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم.

وقد صدق مير حين قال:
أين يوجد مثل هؤلاء المنقطعين عن الدنيا

Thursday, 1 October 2026

موٹاپا اور کنجوس جین کا نظریہ Obesety

انسانی موٹاپا اور کنجوس جین کا نظریہ    (Thrifty Gene Hypothesis) 
گزشتہ 50 سال میں دنیا میں موٹاپا تین گنا بڑھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 1975 میں دنیا کی 3 فیصد آبادی موٹی تھی، آج 16 فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ جسم ایسا کیوں کر رہا ہے جب کہ خوراک عام ہے؟ اس کا جواب 1962 میں امریکی جینیات دان جیمز نیل نے دیا تھا جسے "کنجوس جین" یا Thrifty Genotype کا نام دیا گیا۔
نیل کا کہنا تھا کہ انسان کا جسم اس طرح بنا ہے کہ اچھے وقت میں خوراک کو جمع کر لے اور برے وقت میں اسے استعمال کرے۔ جب ہزاروں سال تک ہر دوسرے تیسرے سال قحط پڑتا تھا تو وہی لوگ زندہ بچتے تھے جن کا جسم چربی کو اچھی طرح ذخیرہ کر لیتا تھا۔ اب قحط ختم ہو گیا، خوراک ہر وقت موجود ہے، لیکن جین وہی پرانے ہیں، وہ اب بھی ذخیرہ کر رہے ہیں۔ یہی ذخیرہ موٹاپا، ذیابیطس اور دل کی بیماری بن جاتا ہے۔
یہ نظام کام کیسے کرتا ہے؟
جب ہم کھاتے ہیں تو انسولین ہارمون گلوکوز کو خلیوں میں بھیجتا ہے۔ کنجوس جین والا جسم انسولین کے خلاف تھوڑی مزاحمت پیدا کرتا ہے تاکہ گلوکوز فوراً خرچ نہ ہو بلکہ چربی بن کر پیٹ اور جگر میں جمع ہو جائے۔ قحط میں یہی چربی زندگی بچاتی تھی۔ آج جب ہر روز 3000 کیلوری میسر ہے تو یہی مزاحمت ذیابیطس ٹائپ 2 بن جاتی ہے۔
ثبوت خطوں اور نسلوں کی بنیاد پر
. پیما انڈین - امریکہ اور میکسیکو
یہ اس نظریے کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ ایک ہی نسل کے دو گروہ ہیں۔ ایریزونا والے پیما 1900 کے بعد امریکی حکومت کی دی ہوئی سفید آٹے اور چینی والی خوراک پر آ گئے۔ آج ان میں 80 فیصد موٹے اور 65 فیصد ذیابیطس کے مریض ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ شرح۔ دوسری طرف میکسیکو کے سیرا مادری پہاڑوں والے پیما، جو آج بھی مکئی، پھلی اور محنت والی زندگی گزارتے ہیں، ان میں موٹاپا صرف 15 فیصد ہے۔ جین ایک، ماحول الگ۔ 100 سال پہلے کی تصویروں میں ایریزونا والے پیما دبلے پتلے اور چست تھے، ان کی زبان میں موٹاپے کا لفظ ہی نہیں تھا۔
 بحرالکاہل کے جزیرے - ناؤرو، ٹونگ
 سام
ان جزائر کے لوگوں نے ہزاروں سال سمندر میں لمبے سفر کشتیوں پر کیے۔ راستے میں ہفتوں بھوک۔ جو زندہ بچا اس میں توانائی بچانے والا جین تھا۔ 1960 میں جب ان جزائر پر امریکی ڈبہ بند خوراک آئی تو ناؤرو دنیا کا سب سے موٹا ملک بن گیا، 90 فیصد بالغ موٹے۔ یہاں ایک جین FTO اور CREBRF میں خاص تبدیلی ملی ہے جو خوراک کو بہت تیزی سے چربی میں بدل دیتی ہے۔
جنوبی ایشیا - ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش
ہمارے خطے میں قحط کی سب سے لمبی تاریخ ہے۔ 1750 سے 1947 تک برطانوی راج میں 25 بڑے قحط ریکارڈ پر ہیں، جس میں کروڑوں مرے۔ ہمارا جسم اسی لیے "پتلا موٹا بچہ" یا Thin-Fat Phenotype بناتا ہے۔ یعنی وزن کم لگتا ہے لیکن پیٹ کے اندر چربی زیادہ۔ پونے کے ایک تحقیقی ادارے کی تحقیق کے مطابق ہندوستانی بچے انگریز بچوں کے مقابلے میں پیدائش پر 800 گرام کم وزن کے ہوتے ہیں لیکن ان کے جسم میں چربی کی تہہ زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں 25 BMI پر ہی ذیابیطس شروع ہو جاتی ہے جبکہ یورپ میں 30 BMI پر۔
صحرائے اعظم کے افریقی اور اینوئٹ
افریقی ساحل کے لوگوں میں کھارا پانی پینے سے نمک بچانے والے جین تھے، جو آج بلڈ پریشر بناتے ہیں۔ اسی طرح قطب شمالی کے اینوئٹ لوگوں میں CPT1A جین میں تبدیلی ہے جو چربی سے زیادہ توانائی بناتا ہے، سردی میں فائدہ مند تھا، آج موٹاپا بن رہا ہے۔
اس نظریے پر تنقید - کیا سب کچھ جین ہے
بعد کی تحقیق نے بتایا کہ صرف ایک کنجوس جین نہیں ہے۔
 *Drifty Gene:* برطانوی سائنسدان جان سپیک مین نے کہا کہ جب انسان نے آگ اور ہتھیار بنا لیے تو موٹا ہونا نقصان دہ نہیں رہا، اس لیے جین بے قابو ہو کر پھیل گئے۔
 *Thrifty Phenotype:* اگر ماں حمل کے دوران بھوکی رہے تو بچے کا جسم رحم میں ہی کنجوس بن جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہالینڈ کے قحط میں پیدا ہونے والے بچوں میں 50 سال بعد ذیابیطس دگنی نکلی۔
لہٰذا آج سائنس کہتی ہے کہ یہ صرف جین نہیں، جین + ماں کی خوراک + بچپن کی خوراک کا مجموعہ ہے۔
نتیجہ
موٹاپا سستی کا نتیجہ نہیں، ایک پرانی بقا کی حکمت عملی ہے جو آج کے وافر خوراک والے ماحول میں نقصان دہ بن گئی ہے۔ جن قوموں نے سب سے زیادہ قحط، لمبے سمندری سفر یا صحرا جھیلے ہیں، ان میں یہ جین زیادہ فعال ہیں۔ اسی لیے پیما، بحرالکاہل کے جزیرے والے اور جنوبی ایشیائی لوگ جب مغربی طرز کی چینی اور تلی ہوئی خوراک پر آتے ہیں تو جلدی موٹے ہو جاتے ہیں۔
حل جین بدلنا نہیں، ماحول بدلنا ہے۔ یعنی وہی خوراک جو ہمارے دادا قحط کے بعد کھاتے تھے - موٹا اناج، دالیں، ساگ، پیدل چلنا، اور روزے یا فاقے کے وقفے - وہی اس پرانی لالچ کو قابو میں رکھ سکتے ہیں
(خان زادہ خان )
نوٹ؛ اس ہفتے خیر خبر سب سے زیادہ فرانس میں پڑھا گیا ہےقارئین کے قیمتی وقت کا شکریہ. فرنچ زبان کو فارسی کی طرح شیریں زبان کہا جاتا ہے اسی لیے یہاں اے آئی سے فرانسیسی ترجمہ کروا کر پہلی دفعہ خود بھی فرانسیسی زبان کا درشن کیا  
 *L'obésité humaine et la théorie du gène économe - Thrifty Gene Hypothesis*
_Une revue de recherche_
*Introduction :*
Au cours des 50 dernières années, l'obésité dans le monde a triplé. Selon l'Organisation Mondiale de la Santé, en 1975, 3% de la population mondiale était obèse, aujourd'hui 16% l'est. La question est : pourquoi le corps agit-il ainsi alors que la nourriture est abondante ? La réponse a été donnée en 1962 par le généticien américain James Neel, sous le nom de "génotype économe" ou Thrifty Genotype.
Neel disait que le corps humain est fait pour stocker la nourriture dans les bons moments et l'utiliser dans les mauvais moments. Pendant des milliers d'années, quand une famine survenait tous les deux ou trois ans, seuls ceux dont le corps stockait bien la graisse survivaient. Maintenant, la famine est terminée, la nourriture est disponible tout le temps, mais les gènes sont restés les mêmes, ils stockent toujours. Ce stockage devient obésité, diabète et maladie cardiaque.
*Comment ce système fonctionne-t-il ?*
Quand nous mangeons, l'hormone insuline envoie le glucose dans les cellules. Un corps avec un gène économe crée une petite résistance à l'insuline pour que le glucose ne soit pas dépensé immédiatement mais s'accumule sous forme de graisse dans le ventre et le foie. Pendant la famine, cette graisse sauvait la vie. Aujourd'hui, quand 3000 calories sont disponibles chaque jour, cette même résistance devient le diabète de type 2.
*Preuves basées sur les régions et les ethnies :*
*1. Les Indiens Pima - États-Unis et Mexique :*
C'est la plus grande preuve de cette théorie. Il y a deux groupes de la même ethnie. Les Pima d'Arizona sont passés après 1900 à une alimentation de farine blanche et de sucre donnée par le gouvernement américain. Aujourd'hui, 80% d'entre eux sont obèses et 65% sont diabétiques. Le taux le plus élevé au monde. D'un autre côté, les Pima des montagnes de la Sierra Madre au Mexique, qui vivent encore de maïs, de haricots et d'un travail physique, n'ont que 15% d'obésité. Même gène, environnement différent. Sur les photos d'il y a 100 ans, les Pima d'Arizona étaient minces et athlétiques, il n'y avait même pas de mot pour l'obésité dans leur langue.
*2. Les îles du Pacifique - Nauru, Tonga, Samoa :*
Les habitants de ces îles ont fait pendant des milliers d'années de longs voyages en mer en pirogue. Des semaines de faim en cours de route. Ceux qui ont survécu avaient le gène qui économise l'énergie. En 1960, quand la nourriture américaine en conserve est arrivée sur ces îles, Nauru est devenu le pays le plus obèse du monde, 90% des adultes obèses. Ici, on a trouvé une modification particulière dans les gènes FTO et CREBRF qui transforme très rapidement la nourriture en graisse.
*3. Asie du Sud - Inde, Pakistan, Bangladesh :*
Notre région a la plus longue histoire de famines. De 1750 à 1947, sous le Raj britannique, 25 grandes famines sont enregistrées, au cours desquelles des dizaines de millions sont morts. Notre corps crée donc le "bébé mince-gras" ou Thin-Fat Phenotype. C'est-à-dire que le poids semble faible mais la graisse à l'intérieur du ventre est plus importante. Selon une recherche d'un institut de recherche de Pune, les bébés indiens pèsent 800 grammes de moins à la naissance que les bébés anglais, mais leur couche de graisse est plus épaisse. C'est pourquoi chez nous le diabète commence dès un IMC de 25, alors qu'en Europe il commence à un IMC de 30.
*4. Les Africains du Sahara et les Inuits :*
Chez les populations de la côte africaine, il y avait des gènes qui conservaient le sel à cause de l'eau saumâtre, ce qui crée aujourd'hui de l'hypertension. De même, chez les Inuits du pôle Nord, il y a une modification du gène CPT1A qui produit plus d'énergie à partir de la graisse, bénéfique dans le froid, qui aujourd'hui crée de l'obésité.
*Critique de cette théorie - Est-ce que tout est génétique ?*
Les recherches ultérieures ont montré qu'il n'y a pas qu'un seul gène économe.
1.  *Drifty Gene :* Le scientifique britannique John Speakman a dit que lorsque l'homme a créé le feu et les armes, être gros n'était plus un désavantage, donc les gènes se sont répandus de manière incontrôlée.
2.  *Thrifty Phenotype :* Si la mère a faim pendant la grossesse, le corps du bébé devient économe dès le ventre. Parmi les enfants nés pendant la famine des Pays-Bas lors de la Seconde Guerre mondiale, le diabète était deux fois plus élevé 50 ans plus tard.
Donc aujourd'hui la science dit que ce n'est pas seulement le gène, c'est la combinaison du gène + l'alimentation de la mère + l'alimentation de l'enfance.
*Conclusion :*
L'obésité n'est pas le résultat de la paresse, c'est une ancienne stratégie de survie qui est devenue nuisible dans l'environnement actuel d'abondance alimentaire. Les peuples qui ont le plus enduré de famines, de longs voyages maritimes ou de déserts ont ces gènes plus actifs. C'est pourquoi les Pima, les insulaires du Pacifique et les Sud-Asiatiques deviennent rapidement obèses lorsqu'ils adoptent une alimentation occidentale sucrée et frite.
La solution n'est pas de changer les gènes, mais de changer l'environnement. C'est-à-dire la même nourriture que nos grands-parents mangeaient après une famine - céréales complètes, lentilles, légumes verts, marche à pied, et des intervalles de jeûne - c'est ce qui peut contrôler cette ancienne avidité.

Wednesday, 30 September 2026

کبھی نہ لوٹنے والے مسافر

وائجر ون اور ٹو - دو مسافر جو کبھی واپس نہیں آئیں گے

یہ انسان کی بنائی ہوئی سب سے دور جانے والی دو مشینیں ہیں۔ دو جڑواں مشینیں جن کو ہم نے الوداع کہہ دیا ہے، اور اب وہ اندھیرے میں اکیلی جا رہی ہیں۔

خیال کب آیا؟ 

خلا میں جانے کا خیال نیا نہیں۔ روسی استاد تسیولکوفسکی نے 1903 میں کہا تھا کہ راکٹ سے خلا میں جایا جا سکتا ہے۔ لیکن وائجر کا خاص خیال ایک 23 سالہ طالب علم گیری فلینڈرو نے 1965 میں پیش کیا۔ اس نے حساب لگایا کہ 1970 کی دہائی کے آخر میں نظامِ شمسی کے چار بڑے سیارے - مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون - ایک لکیر میں آ جائیں گے۔ ایسا ہر 176 سال بعد ہوتا ہے۔
اس سیدھ کا فائدہ یہ تھا کہ ایک جہاز مشتری کے پاس سے گزرے، اس کی کشش سے مفت رفتار لے اور زحل کی طرف پھینکا جائے، پھر زحل سے یورینس، اور یورینس سے نیپچون۔ اسے "کششِ ثقل کی مدد" کہتے ہیں۔ سیدھا نیپچون جانے میں 30 سال لگتے، اس طریقے سے 12 سال میں کام ہو گیا۔
یہی وہ گرینڈ ٹور تھا۔ ناسا نے اسی لیے دو جہاز بنائے۔

اگر تاخیر ہو جاتی تو؟
اگر یہ 1977 میں نہ چھوڑے جاتے تو یہ موقع ہاتھ سے نکل جاتا۔ یہ کھڑکی صرف 1977 سے 1978 تک کھلی تھی۔ اگلی بار یہ چار سیارے اس طرح 2150 کے آس پاس ہی اکٹھے ہوں گے۔ یعنی ڈیڑھ سو سال انتظار کرنا پڑتا۔ اسی جلدی کی وجہ سے وائجر ٹو پہلے چھوڑا گیا - 20 اگست 1977 کو، اور وائجر ون 16 دن بعد 5 ستمبر 1977 کو۔ وائجر ون کا راستہ تیز تھا، اس لیے وہ آگے نکل گیا۔

اندر کیا پیغام رکھا ہے؟ 
کارل ساگان کی ٹیم نے ہر جہاز پر ایک سنہری ریکارڈ لگایا۔ 12 انچ کی تانبے کی ڈسک جس پر سونا چڑھایا گیا ہے۔ یہ ایک ارب سال تک خلا میں خراب نہیں ہوگی۔

اس میں کیا ہے؟
- 55 زبانوں میں سلام۔
- 115 تصویریں - انسان کا جسم، زمین، تاج محل، بچہ دودھ پیتا ہوا۔
- زمین کی آوازیں - ہوا، بارش، پرندے، وہیل مچھلی، بچے کا رونا، بوسے کی آواز۔
- 90 منٹ کی موسیقی - بیتھوون، باخ، چک بیری کا جانی بی گوڈ، اور ہندوستانی راگ بھیرون۔

اور اردو کا پیغام؟ 
اس ریکارڈ میں اردو بھی ہے۔ ایک خاتون کی آواز میں:

> *"السلام علیکم۔ ہم زمین کے رہنے والوں کی طرف سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔" 

ناسا کی فہرست میں اس کا انگریزی ترجمہ یوں لکھا ہے: "Peace on you. We the inhabitants of this earth send our greetings to you." bf66

اب تک کہاں پہنچے ہیں؟ 
آج، ستمبر 2026 میں:
- *وائجر ون:* سورج سے تقریباً 25.5 ارب کلومیٹر دور، 170 AU۔ اس کا سگنل زمین تک آنے میں 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ نومبر 2026 میں یہ پہلی انسانی چیز بنے گی جو ایک نوری دن دور ہوگی۔ یہ 17 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے جا رہا ہے۔
- *وائجر ٹو:* تقریباً 21.4 ارب کلومیٹر دور، 142 AU۔ سگنل کو 19.5 گھنٹے لگتے ہیں۔ cfd5

دونوں بین النجمی خلا میں داخل ہو چکے ہیں۔ وائجر ون 2012 میں اور وائجر ٹو 2018 میں اس حد سے نکلے جہاں سورج کی ہوا ختم ہوتی ہے۔

کیا اہم دریافتیں کیں؟ 
یہ پانچ سال کے لیے بنے تھے، 48 سال سے کام کر رہے ہیں۔

1. مشتری کے چاند آئیو پر آتش فشاں - زمین کے باہر پہلی بار فعال آتش فشاں۔
2. مشتری کا ہلکا حلقہ، جو کسی دوربین نے نہیں دیکھا تھا۔
3. زحل کے حلقوں کی اصل شکل - ہزاروں باریک لکیریں، ان میں بل اور سائے۔
4. زحل کا چاند ٹائٹن، جس کی ہوا زمین جیسی گھنی اور نائٹروجن والی ہے۔
5. یورینس اور نیپچون پر پہلی اور آخری تفصیلی نظر - یورینس کا ٹیڑھا پن اور نیپچون کے چاند ٹرائیٹن پر برف کے فوارے، آج تک صرف وائجر نے دیکھے ہیں۔
6. 1990 میں "پیلا نیلا نقطہ" - وائجر ون نے 6 ارب کلومیٹر سے مڑ کر زمین کی تصویر لی، ایک ذرہ جو ہماری ہر جنگ اور ہر محبت کا گھر ہے۔

کتنی دیر تک کارآمد رہیں گے؟ 

ان میں بجلی ایٹمی بیٹری سے آتی ہے، پلوٹونیم سے۔ ہر سال 4 واٹ کم ہوتی ہے۔ ناسا ایک ایک کر کے آلات بند کر رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030 سے 2035 تک یہ بالکل خاموش ہو جائیں گے، سگنل دینا بند کر دیں گے۔

لیکن مرنا نہیں۔ سنہری ریکارڈ اربوں سال تک خلا میں تیرتا رہے گا۔ 40 ہزار سال بعد وائجر ون ایک ستارے گلیز 445 کے پاس سے گزرے گا، ڈیڑھ نوری سال کے فاصلے سے۔ وائجر ٹو روس 248 کے قریب سے۔

یہ وہ خط ہے جس کا وصول کنندہ شاید کبھی نہ ملے، مگر بھیجنے والے نے یہ بتا دیا کہ ہم یہاں تھے، ہم نے سلام بھیجا تھا، اور 
ہماری زبانوں میں ایک اردو بھی تھی
30 /09/2026  (خان زادہ خان) 


*Voyager 1 and 2, Two Travelers Who Will Never Return*

These are the two farthest machines ever made by humans. Two twin machines to which we have said goodbye, and now they are going alone in the darkness.

*When did the idea come?*

The idea of going to space is not new. The Russian teacher Tsiolkovsky said in 1903 that space can be reached with a rocket. But the special idea for Voyager was presented by a 23-year-old student Gary Flandro in 1965. He calculated that in the late 1970s, the four large planets of the solar system - Jupiter, Saturn, Uranus and Neptune - would come into one line. This happens every 176 years.

The advantage of this alignment was that a spacecraft could pass by Jupiter, take a free speed boost from its gravity and be flung towards Saturn, then from Saturn to Uranus, and from Uranus to Neptune. This is called "gravity assist". Going directly to Neptune would take 30 years, with this method the work was done in 12 years.

This was the Grand Tour. That is why NASA built two spacecraft.

*What if there had been a delay?*

If they had not been launched in 1977, this opportunity would have been lost. This window was open only from 1977 to 1978. The next time these four planets will gather like this will be around 2150. That means a wait of one hundred and fifty years. Because of this urgency, Voyager 2 was launched first - on August 20, 1977, and Voyager 1, 16 days later on September 5, 1977. Voyager 1's path was faster, so it went ahead.

*What message is kept inside?*

Carl Sagan's team placed a golden record on each spacecraft. A 12-inch copper disc coated with gold. It will not be damaged in space for a billion years.

What is in it?
- Greetings in 55 languages.
- 115 pictures - the human body, Earth, the Taj Mahal, a child drinking milk.
- Sounds of the Earth - wind, rain, birds, whales, a baby crying, the sound of a kiss.
- 90 minutes of music - Beethoven, Bach, Chuck Berry's Johnny B. Goode, and the Indian Raag Bhairavi.

*And the Urdu message?*

In this record there is also Urdu. In a woman's voice:

> _"Assalam-o-Alaikum. Hum zameen kay rehnay walon ki taraf say aap ko khush amdeed kehtay hain."_

In NASA's list its English translation is written as: "Peace on you. We the inhabitants of this earth send our greetings to you."

*Where have they reached so far?*

Today, in September 2026:
- _Voyager 1:_ About 25.5 billion kilometers away from the Sun, 170 AU. Its signal takes 24 hours to reach Earth. In November 2026 it will become the first human-made object to be one light-day away. It is traveling at 17 kilometers per second.
- _Voyager 2:_ About 21.4 billion kilometers away, 142 AU. Its signal takes 19.5 hours.

Both have entered interstellar space. Voyager 1 in 2012 and Voyager 2 in 2018 exited the boundary where the Sun's wind ends.

*What important discoveries did they make?*

They were built for five years, they have been working for 48 years.

1. Volcanoes on Jupiter's moon Io - the first active volcanoes outside Earth.
2. Jupiter's faint ring, which no telescope had seen.
3. The true shape of Saturn's rings - thousands of fine lines, with braids and shadows.
4. Saturn's moon Titan, whose air is as dense as Earth's and made of nitrogen.
5. The first and last detailed view of Uranus and Neptune - the tilt of Uranus and the ice fountains on Neptune's moon Triton, seen only by Voyager to this day.
6. In 1990, the "Pale Blue Dot" - Voyager 1 turned from 6 billion kilometers away and took a picture of Earth, a speck that is the home of all our wars and all our love.

*How long will they remain useful?*

Their electricity comes from a nuclear battery, from plutonium. Every year 4 watts are reduced. NASA is turning off instruments one by one. It is estimated that from 2030 to 2035 they will become completely silent and stop sending signals.

But they will not die. The golden record will keep floating in space for billions of years. After 40,000 years, Voyager 1 will pass near a star Gliese 445, from a distance of one and a half light-years. Voyager 2 near Ross 248.

This is the letter whose recipient may never be found, but the sender has told that we were here, we sent greetings, and among our languages there was also Urdu.
www.khairkhabar.com 
(Khan Zada khan) 



Tuesday, 29 September 2026

About Ocean. سمندر ہیں کتنے؟


سمندر کتنے ہیں؟ ایک، پانچ یا سات

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ سات سمندر ہیں۔ کوئی کہتا ہے سات سمندر پار۔ لیکن آج کا نقشہ کہتا ہے کہ سمندر پانچ ہیں، اور حقیقت میں پانی ایک ہی ہے۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
آج کے پانچ سمندر

زمین پر پانی کا ایک ہی بڑا ذخیرہ ہے۔ ہم نے اسے سمجھانے کے لیے پانچ نام دے دیے ہیں۔ ایک بڑا سمندر جو امریکہ اور ایشیا کے بیچ میں ہے اسے بحرِ الکاہل کہتے ہیں۔ دوسرا امریکہ اور یورپ افریقہ کے بیچ ہے، بحرِ اوقیانوس۔ تیسرا ہمارے قریب بحرِ ہند۔ چوتھا اور پانچواں شمال اور جنوب میں برف والے سمندر۔ آخری جنوبی والے کو سن 2000 میں پانچواں مانا گیا۔ یہ پانچوں آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

تو سات والا قصہ کہاں سے آیا؟

سات والا قصہ دینی کتابوں اور پرانے قصوں سے آیا ہے۔ ہر قوم نے سمندر کو اپنی سوچ کے مطابق بیان کیا۔
 :پرانے ہندوؤں کا تصور

ہندوؤں کی پرانی کتابوں میں زمین کو سات حصوں میں بتایا گیا ہے۔ ہر حصے کے گرد ایک سمندر ہے۔ پہلا ہمارے جیسا کھارا پانی۔ دوسرا گنے کے رس کا۔ تیسرا شراب کا۔ چوتھا گھی کا۔ پانچواں دودھ کا۔ چھٹا دہی کا۔ ساتواں میٹھے پانی کا۔ دودھ والا سمندر سب سے مشہور ہے، کہتے ہیں اس میں دیوتا رہتے ہیں۔ اصل میں یہ سمندر نہیں، سوچ ہے۔ جو چیزیں زندگی کے لیے قیمتی تھیں، جیسے دودھ اور گھی، ان کو سمندر جتنا بڑا کہہ دیا۔
. پرانے یونانیوں کا تصور

یونانیوں کے پاس سمندر کے لیے دو لفظ تھے۔ ایک اوکیانوس، یعنی وہ بڑا پانی جو ساری دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتے تھے دنیا تھالی جیسی ہے اور تھالی کے کنارے پر اوکیانوس بہہ رہا ہے۔ اس کے پار کوئی نہیں جا سکتا۔ اسی سے اوشن کا لفظ بنا۔ اور دوسرا لفظ تھالاسا، یعنی اپنا گھر کا سمندر، بحیرہ روم۔ شروع میں وہ اوکیانوس سے بہت ڈرتے تھے، اسی کو بعد میں عربوں نے بحرِ ظلمات کہا۔

 پرانے ایرانیوں کا تصور

ایران والوں کی کتاب اوستا میں دو سمندر بتائے ہیں۔ ایک میٹھے پانی کا بڑا حوض، جس سے سارے بادل اور دریا بنتے ہیں۔ دوسرا کھارا سمندر جس میں جوار بھاٹا آتا ہے۔ ایرانی صرف کہانی نہیں بناتے تھے، کام بھی کرتے تھے۔ دارا بادشاہ نے ڈھائی ہزار سال پہلے نہر کھدوائی تھی جو لال سمندر(احمر) کو نیلے سے ملاتی تھی۔ یہ دنیا کی پہلی نہر تھی۔

 پرانے عربوں کا تصور

اسلام سے پہلے عرب صحرا میں رہتے تھے۔ انہوں نے سمندر کم دیکھا تھا۔ اس لیے شاعری میں سمندر کو ڈر کی چیز کہا۔ امرؤ القیس کہتا ہے کہ رات مجھ پر سمندر کی موج کی طرح چھا گئی۔

جب اسلام آیا تو سوچ بدل گئی۔ قرآن نے کہا کہ سمندر تمہارے لیے مسخر کر دیا گیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت(مچھلی) کھاؤ۔ اب سمندر ڈر نہیں، روزی بن گیا۔ بعد میں جب عرب جہاز ہندوستان اور لنکا جانے لگے تو ایک ملاح ابن ماجد نے کہا، سمندر ایک علم ہے اور تجربہ اس کا خزانہ ہے۔ یہی عرب سیاح جہاز پر لیموں، مالٹا اور ناریل رکھتے تھے، اس لیے ان کو وہ بیماری نہیں لگتی تھی جس سے یورپ کے ملاح مر جاتے تھے۔ اس بیماری کا نام سکروی ہے، جس پر ہم پچھلے مضمون میں بات کر چکے ہیں۔

آخری بات 

سات سمندر کہانی کا عدد ہےجبکہ پانچ، سمندری نقشے کا۔ اور حقیقت میں سمندر ایک ہی ہے جو ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ پرانے لوگوں نے اس ایک کو اپنی اپنی سمجھ سے سات کہا، ایک کہا، دو کہا۔ آج ہم اسے پانچ کہتے ہیں تاکہ سمجھنا آسان ہو۔
(خان زادہ خان )
www.khairkhabar.com

*How Many Oceans Are There? One, Five or Seven*

Since childhood we have heard that there are seven seas. People say "across the seven seas". But today's map says there are five oceans, and in reality the water is one. It is important to understand this difference.

*The Five Oceans of Today*

There is only one large body of water on Earth. We have given it five names to understand it. One big ocean that lies between America and Asia is called the Pacific Ocean. The second one between America and Europe-Africa is the Atlantic Ocean. The third one near us is the Indian Ocean. The fourth and fifth are the icy oceans in the north and south. The last one, the southern one, was recognized as the fifth in the year 2000. All five are connected to each other.

*So where did the story of seven come from?*

The story of seven comes from religious books and old tales. Every nation described the sea according to its own thinking.

*1. The Concept of the Ancient Hindus*

In the old Hindu books, the earth is described as having seven parts. Around each part there is a sea. The first is salty water like ours. The second of sugarcane juice. The third of wine. The fourth of ghee. The fifth of milk. The sixth of yogurt. The seventh of fresh water. The milk ocean is the most famous; it is said that gods live in it. In reality, these are not oceans, but ideas. Things that were precious for life, like milk and ghee, were described as vast as an ocean.

*2. The Concept of the Ancient Greeks*

The Greeks had two words for the sea. One was Oceanus, meaning the great water that surrounds the whole world. They thought the world is like a plate and Oceanus flows around the edge of the plate. No one could go beyond it. The English word Ocean comes from this. And the second word was Thalassa, meaning their own home sea, the Mediterranean. In the beginning they were very afraid of Oceanus, and it was this same ocean that the Arabs later called Bahr al-Zulmat, the Sea of Darkness.

*3. The Concept of the Ancient Persians*

In the Persian book Avesta, two seas are mentioned. One is a large reservoir of fresh water, from which all clouds and rivers are formed. The second is the salty sea in which the tides occur. The Persians did not just make stories, they also did practical work. King Darius, two and a half thousand years ago, had a canal dug that connected the Red Sea to the Nile. This was the first canal in the world.

*4. The Concept of the Ancient Arabs*

Before Islam, the Arabs lived in the desert. They had seen the sea very little. Therefore in poetry they described the sea as a thing of fear. Imru al-Qais says, the night spread over me like the wave of the sea.

When Islam came, this thinking changed. The Quran said that the sea has been made subservient to you so that you may eat fresh meat (fish) from it. Now the sea was no longer fear, it became livelihood. Later, when Arab ships started going to India and Lanka, a sailor Ibn Majid said, the sea is a knowledge and experience is its treasure. These same Arab travelers kept lemons, oranges and coconuts on their ships, so they did not get the disease from which European sailors used to die. The name of this disease is scurvy, which we have discussed in the previous article.

*Final Word*

Seven is the number of stories, while five is the number of the map. And in reality, there is only one ocean that surrounds the whole earth. Old people, according to their own understanding, called this one as seven, as one, as two. Today we call it five to make it easy to understand.

(Khan Zada Khan)

Monday, 28 September 2026

سکروی کی تباہیاں Scurvy

[
سکروی کیا ہے؟ 
لاکھوں سمندری مہم جو جس بے خبری سے جان گنوا بیٹھتے تھے، اس بیماری کانام سکروی ہےوٹامن سی ختم ہو جائے تو مسوڑھے پھول جاتے ہیں، دانت ہلنے لگتے ہیں، جسم پر نیلے دھبے، زخم ٹھیک نہیں ہوتے، آدمی شدید تھکاوٹ سے مر جاتا ہے۔ جہاز پر تازہ پھل سبزی 3 ہفتے بعد سڑ جاتی تھیں، پھر مہینوں تک صرف نمک لگا گوشت اور کیڑے لگے 
بسکٹ۔
واسکوڈے گاما، کولمبس اور ابن بطوطہ تینوں عظیم مہم جو تھے اپنے اپنے سمندری اسفار میں وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے. کولمبس سے پہلے بحر اوقیانوس کے سفر پر جانے والے مہم جو کبھی واپس نہ لوٹ سکے، اسی لیے بحر اوقیانوس کو بحر ظلمات یعنی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا سمندر کا نام دیا گیا، اقبال نے اسی لیے کہا  تھا:بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑےٖ ہم نے
جن سیاحوں کا اوپر ذکر ہوا ہے
ان تینوں کا تجربہ الگ الگ تھا:

*1. واسکو ڈے گاما (1497-99) - سب سے بھیانک شکار*
یہ سکروی کی کلاسک مثال ہے۔ لزبن سے 4 جہاز، 170 آدمی نکلے۔ 16 ہفتے تک بحرِ اوقیانوس میں بغیر ساحل کے چکر کاٹا تو شروع میں بچ گئے۔ لیکن ہندوستان سے واپسی پر مون سون مخالف تھا۔ 5 مہینے سمندر میں رہے۔
موسیل بے (جنوبی افریقہ) میں اس کے آدھے عملے کو سکروی ہو گئی۔ تاریخ لکھتی ہے کہ عملہ اتنا کمزور تھا کہ پال تک نہیں کھینچ سکتا تھا۔ اس کا بھائی پالو ڈے گاما بھی اسی بیماری سے مرا۔ صرف 54 آدمی زندہ واپس پہنچے، 116 سمندر میں مر گئے۔ اتفاق سے ممباسا میں عرب تاجروں سے مالٹے اور لیموں ملے تو باقی بچ گئے۔ تبھی پرتگالیوں کو پہلی بار پتہ چلا کہ ترش پھل اس کا علاج ہے۔ 
*2. کولمبس (1492-1504) - نسبتاً بچا ہوا*
کولمبس کے سفر چھوٹے تھے۔ پہلا سفر 36 دن کا تھا، تازہ کھانا ختم ہونے سے پہلے بہاماس مل گیا۔ اس لیے پہلے دو سفروں میں سکروی کم تھی۔
لیکن چوتھے سفر (1502) میں وہ جمیکا میں ایک سال تک پھنسا رہا، جہازمیں موجود خوراک کیڑے کھا گئے۔ وہاں اس کے عملے میں شدید سکروی اور بھوک پھیلی۔ کولمبس خود گٹھیا اور آنکھوں کی بیماری کا شکار تھا، جو شاید سکروی کی وجہ سے بگڑ گئی۔

*3. ابنِ بطوطہ (1325-1354) - تقریباً محفوظ*
ابنِ بطوطہ اصل میں خشکی کا مسافر تھا۔ اس نے 30 سال میں 120,000 کلومیٹر سفر کیا مگر زیادہ تر قافلوں، بازاروں اور شہروں سے گزرا۔ ہر چند دن بعد تازہ کھجور، انار، ترنج، دہی، گوشت مل جاتا تھا۔
سمندری حصہ بھی اس کا عرب، ہندوستان اور چین کے ساحلی راستے پر تھا جہاں عرب جہاز روزانہ تازہ پانی اور لیموں، آم، ناریل لادتے تھے۔ اس لیے اس کی کتاب "رحلہ" میں سکروی کا ذکر نہیں ملتا، حالانکہ جہاز کے طوفان اور قزاقوں کا ذکر بہت ہے۔

*خلاصہ یہ کہ:*
یورپیوں نے 300 سال تک سکروی کا راز نہیں سمجھا۔ 1747 میں جیمز لنڈ نامی ڈاکٹر نے ثابت کیا کہ لیموں اور مالٹے سے یہ ٹھیک ہوتی ہے، لیکن برطانوی نیوی نے اسے 1795 میں لازمی کیا۔ اس سے پہلے اندازاً 20 لاکھ ملاح اس بیماری سے مر چکے تھے۔

اسی لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ واسکوڈے گاما نے سکروی کو جھیلا، کولمبس اس سے بال بال بچا، اور ابنِ بطوطہ اپنی دیسی خوراک کی وجہ سے اس سے بچا رہا۔عرب  لنکا کے اسفار کی وجہ سے پہلے ہی یہ راز جانتے تھے،ناریل کا بطور زاد راہ ایک بڑا تحفظ تھا. سارک ممالک کے مابین تجارتی معاہدوں کے طفیل پاکستان میں ناریل وافر مل جاتا ہے
 اور تم اپنےرب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے
:(القرآن) 
..................................
(خان زادہ خان28 ستمبر2026)

*What is Scurvy?

The disease that killed hundreds of thousands of seafarers in such ignorance was called scurvy.

When Vitamin C runs out, gums swell, teeth become loose, blue spots appear on the body, wounds do not heal, and a man dies of extreme exhaustion. On a ship, fresh fruit and vegetables would rot after 3 weeks, and then for months there was only salted meat and worm-infested biscuits.

Vasco da Gama, Columbus and Ibn Battuta were three great explorers, and all three managed to survive their sea voyages. The adventurers who went on Atlantic voyages before Columbus never returned, which is why the Atlantic was called _Bahr al-Zulmat_ - the sea drowned in darkness. That is why Iqbal said:

_Bahre zulmat mein daura diye ghoray hum ne_

The experience of these three travelers mentioned above was quite different:

*1. Vasco da Gama (1497-99) - The most horrific victim*
This is the classic example of scurvy. 4 ships, 170 men left Lisbon. They circled the Atlantic for 16 weeks without a coastline and survived at first. But on the return from India the monsoon was against them. They stayed at sea for 5 months.

At Mossel Bay (South Africa) half his crew got scurvy. History records that the crew was so weak they could not even pull the sails. His own brother, Paulo da Gama, also died of the same disease. Only 54 men returned alive; 116 died at sea. By chance in Mombasa they got oranges and lemons from Arab traders and the rest survived. It was then that the Portuguese first learned that citrus fruit is its cure.

*2. Columbus (1492-1504) - Relatively spared*
Columbus's voyages were shorter. The first voyage was 36 days, the Bahamas were found before the fresh food ran out. Therefore, there was little scurvy in the first two voyages.

But on the fourth voyage (1502) he was stranded in Jamaica for a year, worms ate the food on the ships. There, severe scurvy and hunger spread among his crew. Columbus himself suffered from gout and eye disease, which may have been worsened by scurvy.

*3. Ibn Battuta (1325-1354) - Almost safe*
Ibn Battuta was essentially a land traveler. He traveled 120,000 kilometers in 30 years, but mostly through caravans, bazaars and cities. Every few days he got fresh dates, pomegranates, citrons, yogurt and meat.

Even his sea voyages were on the coastal route of Arabia, India and China where Arab ships loaded fresh water and lemons, mangoes and coconuts daily. Therefore, there is no mention of scurvy in his book _Rihla_, although there is much mention of storms and pirates.

*In summary:*
Europeans did not understand the secret of scurvy for 300 years. In 1747, a doctor named James Lind proved that lemons and oranges cure it, but the British Navy made it mandatory in 1795. Before that, an estimated 2 million sailors had died from this disease.

So you can say that Vasco da Gama endured scurvy, Columbus narrowly escaped it, and Ibn Battuta escaped it because of his native diet. The Arabs already knew this secret because of their voyages to Lanka; coconut as a provision was a great protection. Due to trade agreements among SAARC countries, coconut is abundantly available in Pakistan.

_"And which of the favours of your Lord will ye deny?"(Al Quraan) 
...................................................... 

*(Khan Zada Khan 28 Sep. 2026)


Sunday, 27 September 2026

کولمبس کی سیماب پائی

کولمبس کی سیماب پائی
گزشتہ تحریر کولمبین ایکسچینج کے موضوع پر لکھی تھی. کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے جتنے سفر زندگی میں کیے ہیں اس سے زیادہ سفر اس کی لاش کو درپیش رہے ہیں. یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مٹی میں سیمابی خمیر شامل تھا. سیماب یعنی پارہ دو لفظوں کا مرکب ہے سیم کے معنی چاندی اور آب پانی، یوں سیماب کی شکل ایسی 
معلوم ہوتی ہے جیسے پگھلی ہوئی چاندی ہو. پارہ (مرکری) کو کہیں رکھ دیں تو درجہ حرارت جذب کر کے جگہ بدل لیتا ہے. بچوں کو اسی خاصیت کے طفیل سیماب پا کہا جاتا ہے
آئیے دیکھتے ہیں کہ کولمبس کی لاش کولمبس سے زیادہ سفر کیسے طے کیے 

*زندگی میں - 4 سفر (1492 سے 1504):*
سپین سے بہاماس، کیوبا، ہیٹی، جمیکا، وینزویلا، ہونڈوراس تک۔ یہ سب بحرِ اوقیانوس کے ایک ہی روٹ پر تھے۔

*موت کے بعد - 5 بڑے سفر:*

1. *1506 - ویلاڈولڈ:* سپین میں فوت ہوا، وہیں دفن۔
2. *1509 - سیویل:* بیٹے ڈیاگو نے اس کی وصیت پر لاش سیویل کے لا کارتوخا خانقاہ میں منتقل کر دی۔
3. *1537 / 1544 - سانٹو ڈومنگو:* کولمبس کی خواہش تھی کہ اسے نئی دنیا میں دفن کیا جائے، اس لیے اس کی اور اس کے بیٹے دونوں کی باقیات جہاز میں لاد کر موجودہ ڈومینیکن ریپبلک لے جائی گئیں۔
4. *1795 - ہوانا، کیوبا:* جب فرانس نے ہسپانیولا پر قبضہ کر لیا تو سپین والوں نے کہا کہ ہمارا ہیرو دشمن کے ہاتھ میں نہیں رہے گا، ہڈیاں نکال کر کیوبا لے گئے۔
5. *1898 - واپس سیویل:* جب سپین-امریکہ جنگ کے بعد کیوبا آزاد ہوا تو ہڈیوں کو دوبارہ بحری جہاز میں ڈال کر سپین کے سیویل کیتھیڈرل لایا گیا، جہاں آج بھی وہ چار بادشاہوں کے مجسموں کے کندھوں پر رکھا تابوت ہے۔ 42d4

اور قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ 1877 میں سانٹو ڈومنگو کے کیتھیڈرل کی کھدائی میں ایک اور صندوق نکلا جس پر لکھا تھا "Don Cristobal Colon"۔ ڈومینیکن کہتے ہیں اصل لاش ہمارے پاس ہے، سپین والے غلط لاش لے گئے تھے۔ وہ آج بھی ان کے Faro a Colón نامی بڑے لائٹ ہاؤس میں دفن ہے۔
گے
تو زندگی میں اس نے بحرِ اوقیانوس 4 بار پار کیا، مرنے کے بعد اس کی لاش نے 3 بار پار کیا - اور اگر دونوں دعویداروں کو گنیں تو اس کی لاش دو جگہوں پر بیک وقت "موجود" ہے۔ اسی لیے یہ محاورہ بنا ہے۔
اسے محاورتاً ہی کہا جاتا ہے کیونکہ زندگی میں کولمبس نے 1492 تا 1504 چاربار بحر اوقیانوس پار کیا اور 54000 کلومیٹر فاصلہ طے کیا جبکہ اس کی لاش نے تین مرتبہ سمندر عبور کر کے 1506 تا 1898 15000 کلومیٹر فاصلہ طے کیا ہے. اسے زندگی کے چند سال کے سفر اورمرنے کے بعدصدیوں کے سفر کی بنا پر ہی ایسے سمجھا جانے لگا.
کولمبس کی ہڈیوں کا یہ سفر کچھ کچھ تو 
کوہ نور ہیرے سے ملتا جلتا ہے

The Quicksilver Feet of Columbus

My previous article was on the subject of the Columbian Exchange. It is said that Columbus's corpse has travelled more than Columbus himself ever did in his life. So we can say that there was a quicksilver leaven mixed into his clay.

Seemab is mercury. It is a compound of two words: _Seem_ meaning silver and _Aab_ meaning water. Thus Seemab looks as if it were molten silver. In science, it is called Mercury (Hg). Leave it somewhere and it absorbs temperature and changes its place. Children are called _Seemab Pa_ (quicksilver-footed) because of this very property.

Let us see how the corpse of Columbus travelled more than Columbus himself.

*In life - 4 voyages (1492 to 1504):*
From Spain to the Bahamas, Cuba, Haiti, Jamaica, Venezuela and Honduras. All of these were on the same route across the Atlantic Ocean.

*After death - 5 great voyages:*

1.  *1506 - Valladolid:* He died in Spain and was buried there.
2.  *1509 - Seville:* His son Diego, according to his will, moved the body to the La Cartuja monastery in Seville.
3.  *1537 / 1544 - Santo Domingo:* It was Columbus's wish to be buried in the New World, so the remains of both he and his son were loaded onto a ship and taken to what is now the Dominican Republic.
4.  *1795 - Havana, Cuba:* When France took over Hispaniola, the Spaniards said our hero will not remain in the hands of the enemy, so they exhumed the bones and took them to Cuba.
5.  *1898 - Back to Seville:* When Cuba became independent after the Spanish-American War, the bones were put back on a ship and brought to the Seville Cathedral in Spain, where to this day the coffin rests on the shoulders of the statues of four kings.

And the story does not end here. In 1877, during excavation in the cathedral of Santo Domingo, another casket was found inscribed with "Don Cristobal Colon". The Dominicans say the real body is with us, the Spaniards took the wrong body. It is still buried in their great lighthouse called Faro a Colón.

So in his life he crossed the Atlantic 4 times, after his death his corpse crossed it 3 times - and if we count both claimants, his body is "present" in two places at the same time. That is why this proverb was coined.

It is said metaphorically, because in his life Columbus crossed the Atlantic four times from 1492 to 1504 and covered a distance of 54,000 kilometers, while his corpse crossed the ocean three times from 1506 to 1898 and covered 15,000 kilometers. It came to be understood like this because of the comparison between a few years of travel in life and centuries of travel after death.

This journey of the  bones of Columbus is somewhat similar to the journey of the Koh-i-Noor diamond.

(KHAN ZADA KHAN ) 


Monday, 21 September 2026

کولمبین ایکسچینج ،Columbian Exchange

مکہ اور مکئی
پنجابی زبان میں مکئی کو مکی کہتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے 1492 میں جب پہلی دفعہ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو ایک سال بعد واپسی پر اپنے ساتھ مکئی بھی لے آیا ہے جس سے ہماری دنیا بے خبر تھی ہماری دنیا کو جتنی گندم کی ضرورت تھی اس کی پیداوارضرورت سے کہیں کم تھی یہیں سبب ہے کہ گاہے گاہے قحط سالی کا دور دورہ رہتا تھا جو شرح اموات کا سبب اور اوسط عمر کے کم ہونے کا باعث تھا گندم کی فصل صرف سردیوں والے علاقے میں ہی اگائی جا سکتی تھی اور نمی جذب کرنے کی وجہ سے گندم جلد خراب ہو جاتی ہے اس لیے اسے سمندری سفر میں ساتھ رکھنا اور استعمال میں لانا دیر پا نہیں تھا جب کولمبس امریکہ سے واپس آیا تو مکئی کے بیج سپین، اٹلی اور افریقہ میں خوب کامیاب ہوئے اور چند دہائیوں میں ہی اس کا پھیلاؤ تیزی سے ہوا. ایشیا سے حج کے لیے جانے والے حاجی صاحبان زاد راہ کے طور پر جو گندم جوار باجرہ وغیرہ اونٹوں پر لاد کر لے جاتے تھے. وہاں ان اجناس کے بدلے مکئی لے کر اتے تھے. انگریزی میں میز کہلانے والے مکئی کو مکہ کی مناسبت سے مکی کہا جانے لگا اس زمانے کے حاجی لوگ اس مکئی کو مکہ کی سوغات کے طور پر بانٹتے تھے لوگ اس کے بیج اگاتے اور اس کے پودے کو بہترین چارہ اس کی چھلی کو بہترین پھل اس کی بھنے ہوئے دانوں کو بہترین تحفہ اور اس کے آٹے کو بہترین خوراک قرار دیتے تھے اس برکتی اناج نے ایشیااور افریقہ کے وسیع خطوں میں قحط سالی کو ختم کیا اور گندم کی فصل کو سہارا ملا جو کہ کم پیداوار کی وجہ سے جلد ہی ختم یا خراب ہو جاتی تھی. ان دنوں پاکستان میں چکن خاصہ سستا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مکئی کی پیداوار وافر ہے اور یہی مکئی برائلر مرغیوں کی خوراک کا 85 فیصد پورا کرتی ہے یہ تھی کولمبین ایکسچینج کی کہانیوں میں سےایک کہانی
،،،،،،، www.khairkhabar.com,,,,,,,,,
 (21/09/2026) خان زادہ خان


Why Maize is Called "Makai / Makki" in Punjabi*

One reason maize is called "Makki" in Punjabi language is related to 1492. When Columbus first discovered America, a year later on his return he brought with him maize, a crop the Old World was completely unaware of.

The world at that time needed far more wheat than was being produced. This is why famines were frequent, which caused high mortality rates and low average life expectancy. Wheat could only be grown in winter regions and because it absorbs moisture, it would spoil quickly. Therefore, carrying it on long sea voyages and using it as a staple was not durable.

When Columbus returned from America, maize seeds proved highly successful in Spain, Italy and Africa and within a few decades its cultivation spread rapidly.

Hajis traveling from Asia for Hajj used to carry wheat, sorghum, millet etc. on camels as provisions for the journey. In exchange for those grains, they would bring back maize from there. The crop called "Maize" in English came to be called "Makki" due to its association with Makkah. Hajis of that time used to distribute this maize as a souvenir from Makkah. People would grow its seeds and considered its plant as the best fodder, its cob as the best fruit, its roasted grains as the best gift, and its flour as the best food.

This blessed grain ended famine in vast regions of Asia and Africa and supported the wheat crop, which used to be depleted or spoiled quickly due to low production.

These days chicken is quite cheap in Pakistan, one reason for which is that maize production is abundant in Pakistan and this same maize fulfills 85% of the feed of broiler chickens.

*This was one of the stories of the Columbian Exchange.*

*(Khan Zada Khan) http://www.khairkhabar.com