پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
_(ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی یاد میں) _
میر تقی میر نے یہ شعر شاید ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیسے لوگوں کے لیے ہی کہا تھا۔ وہ لوگ جو دنیا سے بے نیاز، اپنے حال میں مست، صرف ایک دھن میں لگے ہوں۔
آپ نے جس مضمون کا ذکر کیا، وہ حکیم محمد سعید کی ڈائری سے تھا۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں کہ 1992 میں وزیر اعظم میاں نواز شریف فرانس کے دورے پر تھے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ڈاکٹر حمید اللہ سے ملنا ہے۔ سفارت خانے نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کسی سے نہیں ملتے۔ بڑی منت سماجت پر وہ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں ملنے گئے۔ اندر ایک چارپائی، ایک میز، اور فرش سے چھت تک کتابیں۔ ایک 85 سالہ بوڑھا، میلی سی شیروانی میں، جو 40 سال سے اسی ایک کمرے میں رہ رہا ہے۔ نہ شادی کی، نہ گھر بنایا، نہ بینک بیلنس۔
یہ تھے ڈاکٹر محمد حمید اللہ۔
*کون تھے؟*
19 فروری 1908 کو حیدرآباد دکن کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نانا حافظ قرآن، پرنانا 30 کتابوں کے مصنف۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی۔ پھر جرمنی کی بون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ، اور پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے دوسری ڈاکٹریٹ۔ 7 زبانوں میں لکھتے تھے، 22 زبانوں پر عبور تھا۔ تھائی زبان 84 سال کی عمر میں سیکھی۔
1948 میں جب ہندوستان نے حیدرآباد پر قبضہ کیا تو وہ لیگ آف نیشنز میں نظام کے وفد میں شامل تھے۔ انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور فرانس میں ایک "بے وطن" کی حیثیت سے رہنے لگے۔ فرانس نے شہریت کی پیشکش کی، انہوں نے کہا جب تک حیدرآباد کا مقدمہ اقوام متحدہ میں ہے، میں بے وطن رہوں گا۔ بعد میں پاکستان نے انہیں پاسپورٹ دیا اور وہ اسی پر ساری عمر گزار گئے۔
*کام کیا کیا؟*
ان کا نام مسلمانوں میں تین کاموں سے زندہ ہے:
*1. قرآن کا فرانسیسی ترجمہ:* 1959 میں پہلا ترجمہ جو ایک مسلمان عالم نے فرانسیسی میں کیا۔ آج تک اس کے 30 ایڈیشن اور 20 لاکھ سے زیادہ کاپیاں چھپ چکی ہیں۔ یہ واحد عالم ہیں جنہوں نے قرآن کا ترجمہ تین یورپی زبانوں - فرانسیسی، انگریزی اور جرمن میں کیا۔ 1939 میں سورہ فاتحہ کا ترجمہ 125 زبانوں میں کیا۔
*2. صحیفہ ہمام بن منبہ کی دریافت:* حدیث کی سب سے پرانی کتاب جو گم ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے دو قلمی نسخے دمشق اور برلن کی لائبریریوں سے ڈھونڈے۔ ثابت کیا کہ آج کی حدیث کی کتابیں ہوائی باتیں نہیں۔
*3. سیاسی دستاویزات:* "الوثائق السیاسیہ" - حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور کے 300 سے زیادہ سیاسی معاہدے۔ اور "مسلم کنڈکٹ آف اسٹیٹ" جو اسلامی بین الاقوامی قانون پر آج بھی دنیا میں پہلی کتاب مانی جاتی ہے۔
170 کتابیں، 1000 سے زیادہ مضامین۔
*بے ریائی اور رائلٹی:*
1985 میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز اور ایک کروڑ روپے انعام دیا۔ انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کیا اور کہا یہ رقم اسلام آباد کی اسلامک ریسرچ اکیڈمی کو دے دیں۔ ساری کتابوں کی رائلٹی ہمیشہ طلبہ اور اسلامک سینٹرز کو دیتے رہے۔ پیرس میں وہ فلیٹ بھی ان کا اپنا نہیں تھا، ایک مسجد کے اوپر کرائے کا کمرہ تھا جہاں وہ زمین پر سو کر تحقیق کرتے تھے۔
1996 میں بیمار ہوئے تو امریکہ میں اپنی بھتیجی کے پاس چلے گئے۔ 17 دسمبر 2002 کو فجر پڑھ کر سوئے اور پھر نہ اٹھے۔
وفاقی بورڈ نے اگر یہ مضمون نصاب سے نکال دیا ہے تو یہ صرف ایک مضمون نہیں نکالا، ایک آئینہ چھین لیا ہے۔ آج کا بچہ سمجھتا ہے کہ کامیابی امریکہ کی شہریت، بڑی گاڑی اور یوٹیوب فالوورز کا نام ہے۔ اسے بتانے والا کوئی نہیں کہ کامیابی اس ایک کمرے میں بھی ہے جہاں ایک شخص 50 سال تک بغیر شادی، بغیر پاسپورٹ کے صرف اس لیے زندہ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو درست ثابت کر سکے۔
میر نے سچ کہا تھا:
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
مضمون کا عربی ترجمہ
*شخصية الدكتور حميد الله*
*أين يوجد مثل هؤلاء المنقطعين عن الدنيا*
_(في ذكرى الدكتور محمد حميد الله)_
كأن مير تقي مير قال هذا البيت لهؤلاء الناس أمثال الدكتور محمد حميد الله، أولئك الذين لا يبالون بالدنيا، مستغرقون في حالهم، منهمكون في همٍّ واحد.
أما المقال الذي ذكرتم، فهو من مذكرات الحكيم محمد سعيد. يكتب الحكيم أنه في عام 1992 كان رئيس الوزراء ميان نواز شريف في زيارة لفرنسا، فأبدى رغبته في لقاء الدكتور حميد الله. فقالت له السفارة إن الدكتور لا يقابل أحدا. وبعد إلحاح شديد ذهبوا للقائه في شقة صغيرة، فيها سرير وطاولة وكتب من الأرض إلى السقف. شيخ في الخامسة والثمانين، يلبس شيرواني متسخ، يعيش في نفس الغرفة منذ 40 سنة. لم يتزوج، ولم يبنِ بيتا، ولم يكن له رصيد في البنك.
هذا هو الدكتور محمد حميد الله.
*من هو؟*
ولد في 19 فبراير 1908 في أسرة علمية في حيدر آباد الدكن. جده حافظ للقرآن، وجد جده مؤلف لثلاثين كتابا. حصل على الماجستير والليسانس في الحقوق من الجامعة العثمانية، ثم الدكتوراه من جامعة بون بألمانيا، ودكتوراه ثانية من جامعة السوربون بباريس. كان يكتب بسبع لغات، ويتقن 22 لغة. تعلم اللغة التايلاندية وهو في الرابعة والثمانين من عمره.
في عام 1948 عندما احتلت الهند حيدر آباد، كان ضمن وفد النظام في عصبة الأمم. فرفض العودة وبقي في فرنسا بصفته "عديم الجنسية". عرضت عليه فرنسا الجنسية فقال: ما دامت قضية حيدر آباد في الأمم المتحدة فسأبقى بلا وطن. ثم منحته باكستان جواز سفر، وقضى عليه حياته كلها.
*ماذا فعل؟*
بقي اسمه حيا بين المسلمين بثلاثة أعمال:
*1. ترجمة القرآن إلى الفرنسية:* في عام 1959 قام بأول ترجمة قام بها عالم مسلم إلى الفرنسية. طبعت حتى اليوم 30 طبعة وأكثر من مليوني نسخة. وهو العالم الوحيد الذي ترجم القرآن إلى ثلاث لغات أوروبية - الفرنسية والإنجليزية والألمانية. وفي عام 1939 ترجم سورة الفاتحة إلى 125 لغة.
*2. اكتشاف صحيفة همام بن منبه:* وهي أقدم كتاب في الحديث كان مفقودا. وجد الدكتور نسختين مخطوطتين لها في مكتبتي دمشق وبرلين. وأثبت أن كتب الحديث اليوم ليست كلاما في الهواء.
*3. الوثائق السياسية:* كتاب "الوثائق السياسية" - أكثر من 300 معاهدة سياسية من عهد النبي صلى الله عليه وسلم والخلفاء الراشدين. وكتاب "مسلم كوندكت أوف ستيت" الذي لا يزال يعتبر أول كتاب في العالم عن القانون الدولي الإسلامي.
170 كتابا، وأكثر من 1000 مقال.
*الزهد والحقوق:*
في عام 1985 منحته حكومة باكستان هلال الامتياز ومبلغ عشرة ملايين روبية. فرفض استلام الجائزة وقال: أعطوا هذا المبلغ لأكاديمية البحوث الإسلامية في إسلام آباد. وكان يوزع كل حقوق كتبه دائما على الطلاب والمراكز الإسلامية. حتى الشقة التي في باريس لم تكن ملكه، بل كانت غرفة مستأجرة فوق مسجد كان ينام فيها على الأرض ويقوم بأبحاثه.
في عام 1996 مرض فذهب إلى ابنة أخيه في أمريكا. وفي 17 ديسمبر 2002 نام بعد صلاة الفجر ولم يستيقظ.
إذا كان المجلس الفيدرالي قد حذف هذا المقال من المنهج، فإنه لم يحذف مجرد مقال، بل انتزع مرآة. يظن طفل اليوم أن النجاح هو جنسية أمريكا وسيارة فاخرة ومتابعون على يوتيوب. ولا يوجد من يخبره أن النجاح يكمن أيضا في تلك الغرفة الواحدة حيث عاش رجل 50 سنة بلا زواج وبلا جواز سفر فقط ليثبت صحة حديث واحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم.
وقد صدق مير حين قال:
أين يوجد مثل هؤلاء المنقطعين عن الدنيا

.jpg)

No comments:
Post a Comment