google-site-verification: google1333cc5cf8c91f7c.html تعلیم ، معلومات اور تفریح ایک ساتھ www.khairkhabar.com

Search...

Monday, 13 April 2026

Muslim World مسلم دنیا کے موجودہ حالات (ایران جنگ کے تناظر میں)

www.khairkhabar.com

عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں

  (حصہء دوم)         تحریر:  خان زادہ خان

دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران نے اپنے لیے جو راستہ چنا وہ اُس کا اپنا انتخاب تھا ۔جبکہ مشرقِ وسطیٰ  کے عربوں جنہیں جی سی سی بھی کہا جانے لگا ہے بشمول مصر مسلسل مغرب ،امریکہ اور اسرائیل نے انہیں آزمائش میں مبتلا رکھا ہے ۔خود مغرب کی آپس کی لڑائیاں اِس دور میں تھم گئیں جو کئی صدیوں تک گاہے گاہے سر اُٹھاتی رہتی تھیں ۔ایران کے مقابلے میں عربوں کی موجودہ حیثیت یہ نہ ہوتی اگر گزشتہ صدی میں ستر کی دھائی میں تیل نہ نکل آتا ۔اِسی تیل نے لڑکھڑاتے ڈالر کو سہارا دیا نئی معیشت کو  Petro-Dollar کا نام دیا گیا ۔جو بریٹن ووڈ معاہدہ (1944) کے وقت گولڈ سٹینڈرڈ طے پایا تھا۔1960 ء کی دھائی میں فرانس نے امریکہ سے معاہدوں کی وصولی گولڈ میں طلب کی توامریکہ کو بڑی پریشانی ہوئی کیونکہ ڈالر کا بھانڈا پھوٹنے لگا ۔شاہ فیصل کو راستے سے ہٹا کر (1975ء) ایک دفعہ پھر امریکہ اپنی معاشی برتری (Petro Dollar)کی بنا پر سُپر پاور بنا رہا  ۔اُس کے بعد سے عرب اپنے دفاع کا ضامن امریکہ ہی کو سمجھتے چلے آئے ہیں ۔

 مسلم دُنیا  بظاہر تو 57 اسلامی ممالک کا بلاک ہے لیکن اپنی بالغ نظری کے اعتبار سے اِس وقت پاکستان ، ترکیہ ، ملائشیا ،انڈونیشیا اور ایران  جی ۔سی۔سی۔ سے زیادہ بالغ نظر ہیں اور عالمِ اسلام کی سیاسی رہبری کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ تعصبات جو اسلام نے شروع دن سے ہی رد کر دیے تھے اور نبی کریم  ِﷺ نےحجۃ الوداع میں دورِ جاہلیت کے تعصبات(رنگ ،نسل ،زبان وغیرہ)کی نفی فرمائی تھی اور آنے والے زمانوں کا منشور واضح فرما دیا تھا۔آج وہ جاہلانہ تعصبات پھر سے زوروں پر ہیں ۔اقبال نے شاعری کے ذریعے جن کی نشاندہی کی ہے :

؎     مدعا تیرا ،  اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں

  ترکِ دُنیا  قوم کو  اپنی  نہ سکھلانا  کہیں

   وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زُباں

    چھُپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں

  وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے

  دیکھ کوئی دل نہ دُکھ جائے تیری تقریر سے

   محفلِ نو  میں  پرانی  داستانوں  کو  نہ  چھیڑ    

 رنگ پر جو اب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ

آج کا امریکہ جہاں صارفیت کی سب سےبڑی منڈی ہے داخلی قرض بھی بے حساب ہے لیکن تیس ٹریلین ڈالر کا جی۔این ۔ پی رکھتا ہے(چین اٹھارہ ٹریلین ڈالر جبکہ روس چار ٹریلین ڈالر )آج بھی اپنے مالیاتی حجم میں  امریکہ سب سے زیادہ ہے ،امریکی منڈی سے سب سے زیادہ استفادہ کرنے والا (بینیفیشری) خود چین ہے جو کہ امریکی صارفیت کی اِس منڈی کے لیے پیداواری انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔گزشتہ برس چین امریکہ تجارت 415 ارب ڈالر رہی ہے ،ایسے میں چین کیونکر کسی کی حمایت میں آئے گا۔اگر امریکہ کے خلاف کسی ملک کی ہلہ شیری کرے تو یہ الگ بات ہے۔موجودہ ایران امریکہ تنازعہ میں اِس جنگ کے طول پکڑنے اور " بوٹس آن گراؤنڈ "کی حماقت کرنے سے چین اورروس  کوہ فائدہ ہو سکتا ہے جس کا کوئی تصور ہی کر سکتا ہے ۔نپولین نے کہا :

Don’t disturb your enemy when he is making mistakes

ٹرمپ غلطیاں کرنے کے باوجود روٹی کو چوچی نہیں کہتا ،وہ مسلم دُنیا کے بارے میں وہی ذہنیت رکھتا ہے جو ذہنیت یہودیوں کی ہےایران جنگ میں اُس نے اسرائیل کے تقاضوں کو نبھایا ہے لیکن اُسے امریکہ کے داخلی قرض (جو اُس کے جی۔این۔پی۔سے بھی زیادہ ہو رہا ہے)کو ایڈریس کرنے کے لیے جھنجھوڑے ہوئے یہودی بھی ہاتھ لگنے والے ہیں ،ایشیا میں اُس کی جو سُبکی ہو رہی ہے اُس کا نزلہ اِسی ٹرمپ کے ہاتھوں یہودیوں پر پڑے گا۔اسرائیل امریکہ سے کہے گا :

       نہیں ، نہیں ،نہیں کر   اب وقت  نہیں ، نہیں کا

؎       تیری اِک نہیں ،نہیں نے مجھے چھوڑا نہیں کہیں کا

   عام طور پر دنیا چین کے علاوہ روسی انگڑائی کا بھی طمع رکھتی ہے ،روس بھی اِسی امریکہ کے ہاتھوں یوکرائن جنگ میں مصروف رکھا ہوا ہے اور اسی جنگ کے طفیل اُس کی معیشت پر بھی PAUSEکا بٹن دبا ہوا ہے ۔ٹرمپ 2016ء پہلی دفعہ اور پھر 2024ء  دوسری دفعہ امریکی صدر منتخب ہو اہے یو ں وہ علی الترتیب 45 واں اور 47 واں صدر ہے۔دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے  پروہ دُنیائے عالم کی گلی کا مرزا یار بنتا جا رہا ہے کہ جس کے لیے کُچھ جٹیاں (جی سی سی وغیرہ)دعائیں مانگ رہی ہیں :

حجرے شاہ مقیم دے

 اک جٹی عرض کرے

 ہٹی سڑے کراڑ دی

 جتھے دیوا  نت بلے

  کُتی مرے فقیر دی

جیہڑی چؤں چوؤن نت کرے

پنج ست مرن گونڈہناں

رہندیاں نو تپ چڑھے

گلیاں ہو جان سنجیاں

وچ مرزا یار پھرے

  چھتیس کھڑب ڈالر کا داخلی بوجھ (قرضہ)ایسا دباؤہے کہ جٹی کی تمنا بَر آنے کے باوجود بھی مرزا کو سنجی گلیاں بےتاب ہی رکھیں گی۔اُس کا خیال ہے کہ ندوسری جنگ عظیم کے بعدجونیورلڈ آرڈر  اُسی کی مرضی سے ترتیب پایا تھا اور اگر وہ اُس کو ترک کرنا چاہتا ہے تو یہ بھی اُسی کی مرضی ہے۔

 نیتن یاہو پر ایران کے جوابی وار اور آئرن ڈوم کے ٹیں ٹیں فش ہو جانے کے بعد عام یہودی کے ہونٹوں پر پیپڑی جمنے لگی ہے ۔جن لوگوں کا سائنس اور مصنوعی ذہانت بارے یہ خیال تھا  بٹن دُبائیں گے تو دنیا جیے گی بٹن دبائیں گے تو دُنیا مرے گی وہ تصور اب پاش پاش ہو گیا ہے ایسے میں بوٹس آن گراؤنڈ کا تجربہ ویتنام اور افغانستان جنگوں کے تناظر میں اور بھی بھیانک ہوتا جا رہا ہے۔

           (جاری ہے)


Sunday, 12 April 2026

عالمِ اِسلام کی موجودہ صورتِ حال Muslim World

www.khairkhabar.com

عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں

                         (حصہ  اول)                                            تحریر : خان زادہ خان

مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے چند اشعار :

(1)         سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہو گئیں             خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

(2)          یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں            لیکن  اب نقش  و  نگارِ  طاقِ  نسیاں  ہو  گئیں

(3)        میں چمن میں  کیا  گیا ،گویا  دبستاں کھُل گیا            بُلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

(4)         ہم موحد ہیں  ہمارا  کیش ہے  ترکِ رسوم           ملتیں  جب مٹ  گئیں ،اجزائے ایماں ہو گئیں

(5)      رنج سے خوگر ہو ا  انساں تو مٹ جاتا ہے رنج            مشکلیں مجھ پر   پڑیں اتنی کہ   آساں ہو گئیں   

(6)       یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں              دیکھنا  ان بستیوں کو  تم  کہ  ویراں ہو گئیں

بقولِ غالب :  (1 )زمین سے جو لالہ وگُل اُگتے ہیں عقیدہ تناسخ (Rebirth)کی رُو سے یہ اُن حسین وجمیل ہستیوں کا دوسرا جنم ہے کہ جن کے وجود سے کبھی یہ دنیا چمن زار ہوا کرتی تھی ۔

(2)  جب انسان کو روزی روٹی کے مسائل گھیر لیں تو جمالیاتی ذوق پر آنچ پڑتی ہے اور ماضی کی حسین یادیں تک بھول جاتی ہیں ( یہ غزل 1852 ء میں لکھی  گئی ہے، تب مغلیہ سلطنت زوال پزیر تھی ،بہادر شاہ ظفؔر کے استاد شیخ ابراہیم ذوقؔ تھے۔(3)   میرے چمن میں آنے سے چمن کی رونقیں (شاعری کی محفلیں )بحال ہو رہی ہیں میری شاعری گویا کہ دہلی اور ہندوستان کے مشاعروں کو گرما رہی ہے۔۔ (4) غالبؔ نے یہاں دین اور مذہب کے تصور کو بڑے ہی لطیف اندازِ ریختہ میں بیان کیا ہے کہ دین کا تمام تر تصور وحدانیت پر اُستوار ہے جبکہ دیگر طور طریقے ترک کر کے ہی اپنے ایمان کی حفاظت کی جا سکتی ہے ۔(5)  انفرادی صدمہ یا رنج اجتماعی صدمے یا رنج سے بھی گہرا ہوتا ہے،موجودہ زمانے میں دنیا کے دو سوممالک ہیں اور دنیا کی بڑی بڑی تنظیمیں ٹرمپ کے سامنے بیکار محض اور مجبور محض ہیں  گویا کہ ایران  کا غم اُس کا انفرادی غم بنتا جا رہا ہے۔ایسی کیفیت میں اپنے غم سے دوستی کر کے ہی جیا جا سکتا ہے۔ (6) غالب نے ایک اعتبار سے اپنے رونے دھونے پر تماشہ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ میرے آنسوؤں کے سیلاب میں ایک دِن تم بھی بہ جاؤ گے ۔

                ایران میں لالہ وگُل کے موسم میں یہ نالے غزل خوانی میں ہمیشہ سے ڈھلتے چلے آئے ہیں ، سعدی، رومی، فردوسی، حافظ  اور عمر خیام جیسے شعرا نے اِس چمن کو تازگی برقرار رکھی لیکن 2026 کا طلوع  ہوا تو مشرق ہی سے ہے لیکن ایران کے لیے قیامت مغرب کی سمت ہی سے وارد ہوئی ہے۔ بقول انوریؔ :

                            ہر بلا در آسماں  رفت          اولیں خانئہ انوری گفت

(جومصیبت بھی آسمان سے زمین پر اترتی ہے ، زمین والوں سے پہلا سوال یہی کرتی ہے کہ مجھے انوری کے گھرکا پتہ  بتا دو)

آج کا ایران انوریؔ کا گھر بنا ہوا ہے۔خشکی اور تری پر پھیلا ہوا فساد جو کہ قرآن کی زبان میں انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے آج غزہ ،لبنان کے بعد ایران کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے ۔

     ظھرالفساد فی البر والبحر بماکسبت ایدی الناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (سورۃ روم آیت 41 )

    ایران خشکی اور تری ہر دو کے ذریعے تیرہ ممالک کے پڑوس کا وسیع تجربہ رکھتا ہے(انقلاب 1979سے قبل و بعد ہر دو ادوار اِس میں شامل ہیں)۔رشتے اور تعلق بدلے جا سکتے ہیں لیکن فرد کی طرح کوئی ملک نقل مکانی نہیں کر سکتا کہ وہ پڑوسی بھی بدل سکے ۔ ایران کے خشکی کے پڑوسی :  عراق اور ترکی (مغرب)، آرمینیا اور آزربائیجان (شمال مغرب)،ترکمانستان (شمال مشرق) ، پاکستان اور افغانستان (مشرق)۔اِسی طرح ایران کے ساحل سمندر کے پڑوسی بحیرہ فارس وعمان سے جڑے کویت ،سعودی عرب ،بحرین ،قطر ،عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں یوں خطے میں (چین 14 پڑوسی کے بعد) سب سے زیادہ پڑوسی ایران ہی رکھتا ہے۔ یعنی ایران کے اِن پڑوسی مسلم ممالک کی تعداد (پاکستان کے علاوہ)  برادرانِ یوسف جتنی بنتی ہے۔

                 ؎                    آ  رہی  ہے  چاہ  ِ یوسف  سے  صدا                   

                                  دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

13 تا 25 جون 2025ء  بارہ دِن کی جنگ نے جہاں بیرونی دشمنوں کو طے کیا وہیں داخلی دشمنوں نے ایک نقاب کو اتارنے کی ضد کی تھی وہی امریکہ و اسرائیل کے نقاب میں چھُپ کر گھات لگانے لگے۔

      ؎                     ٹکرائیے  ہجوم  سے  اور  جان  جائیے          

                        دیوار کون کون ہے رستہ ہے کون کون

 پہلی جنگ ِعظیم کے بعد مجلسِ اقوام (League Of The Nations)جوں توں کر کے بیس سال نکال گئی ۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام ِ متحدہ (U.N.O)کو اسی سال کی طبعی عمر ملی اور مجلس اقوام کی طرح جوانی مرگ ہونے سے بچ گئی۔دنیا کے دو سو ممالک ایک زعم میں ضرور رہے ہیں کہ انہیں اپنی بات پہنچانے کا ایک فورم (اقوامِ متحدہ) میسر ہے۔لیکن بسا آرزو کہ خاک شدی  ۔لکھنوی شاعر (انشااللہ خان انشاء) نے جو بات تجاہل عارفانہ میں کہی تھی ، صدیوں بعد وہ شاعری امریکی  ناقابل  یقیں(ٹرمپ) ببانگِ دُھل کر رہا ہے:

؎     ایک طفل ِ دبستاں ہے فلاطوں میرے آگے           کیا منہ ہے ارسطو جو کرے چوں میرے آگے

       کیا  مآل  بھلا  قصر فریدوں  میرے  آگے              کانپے ہے  پڑا   گنبدِ گردوں میرے آگے

        ہُوں  وہ  جبروتی ، کہ گروہِ  حکماء  سب      چڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں میرےآگے

       مُجرے کو مرے خسروِ پرویز ہو حاضر                 شیریں بھی کہے آکے  ّ  بلا لوں میرے آگے  ٗ

        وہ  مارِ فلک  کاہکشاں نام ہے جس کا             کیا دخل جو  بَل کھا کے کرے فُوں میرے آگے

1970 کی دہائی کے بعد سے عشرہ در عشرہ سرد جنگ کی زد میں آنے والے بیشتر مسلم ممالک  ہی تھے اِن میں سے افغانستان کو پرکار کے مرکزی نقطے کی حیثیت حاصل رہی ہے۔  حضرت علی  کرم اللہ وجہ کا  قول ہے کہ :   "  دُنیا کے تمام شر کے پیچھےایک ہی چیز کارفرما ہوتی ہے جس کا نام  جہالت ہے اور اِسی طرح دنیا میں جتنی خیر ہے اُس کے پیچھے جو چیز کی کارفرمائی ہوتی ہے اُس کا نام ہے علم"

عصائے کلیم کی عطا بھی اِسی علم ہی کی مرہونِ منت ٹھہرتی ہے ۔آپ سائنسی علم کے تناظر میں دیکھیں :

    ؎            وقت کا  یہ معجزہ بھی کتنا عظیم ہے         کہ دستِ سامری میں عصائے کلیم ہے

ولادیمر لینن (U.S.S.R) نے کیا خوب بات کہی تھی ،جو بے یقینی کے اِس دور میں سچ ثابت ہو رہی ہے:

There are decades where nothing happens, and there are weeks where decades happen.

غاؔلب کے نزدیک جس طرح کانٹوں کی زباں پیاس سے سوکھ جاتی ہے کچھ ایسا ہی حال زمانے کے منہ میں عشروں کی زبان کا بھی ہو جاتا ہے ۔ ؎             کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب

                                                          اک آبلہ پا  ا ِس وادئ  پُر خار  میں  آوے

  1979 ء میں وادئ پر خار میں امام خمینی نے آبلہ پائی کی ۔جس (انقلاب) کے خدوحال بیسویں صدی کے پہلے عشرے سے ہی واضح ہونا شروع ہو چکے تھے جب بحری جہازوں کا انجن کوئلے سے ڈیزل پر شفٹ ہو رہا تھا۔تب عالمی سامراج کا نقشہ گر برطانیہ تھا اور سمندروں پر بھی اُس کا راج تھا ۔اولیں تیل ایران سے نکل آنا  اُس کے لیےخوش بختی اور آزمائش ایک ساتھ لےکر آیا۔برطانیہ کی للچائی ہوئی نظر داخلی سیاست میں رخنہ انداز ہوتی چلی گئی۔اقبال مغرب سے ایرانی فلسفہ پر پی ایچ ڈی کرکے لوٹے تو اُن کی نظر برطانیہ کے باطن کو جانتی تھی ۔جوابِ شکوہ کا یہ مصرعہ تناظر مانگتا ہے :          تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے

ایران نے(عربوں کے مقابلے میں) اپنی عصبیت کی پخ بھی پال رکھی ہےانہیں ساسانی تہذیب کا بڑا زعم ہے ایرانی محرر اسلام کی آمد کو بطور  اسلامی فتوحات لکھنے کی نسبت عربوں کے حملے لکھنا زیادہ پسند کرتا ہے۔آج سےایک ہزار سال پہلے  فردوسی نے شاہنامہ میں یہی لکھ کر انعام پایا تھا :

                ؎           ز  شیر ِ شتر خوردن  و   سوسمار        عرب را بجایی رسیداست کار

                            کہ  تاجِ  کیانی کند  آرزو        تفو بر تو  ای چرخ گردوں تفو

فردوسی آسمان کو مخاطب کر کے یوں طعنہ زن  ہوتا ہے:  اونٹنی کا دودھ اور سوسمار (گو )کھانے والوں کو کام مل گیا(کام بن گیا)اور کیانی (ساسانی بادشاہ کا تاج )آرزو کرتاہی رہ گیا۔

  عربوں کا تعصب بھی کسی طور کم نہیں ہے کہ وہ محمد بن قاسم، موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کی فتوحات کو مسلمانوں کی فتوحات کی جگہ عربوں کی فتوحات لکھ،بول کر تفاخر محسوس کرنے لگے ہیں ۔بیسویں صدی کے پہلے حصے میں عربوں کو جو خطے ملے اُس میں برطانیہ فرانس کا عمل دخل تھا لہٰذا  اُن "  انقلابات" کو برآمد (export) کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی تھی کہ اقبال جیسے دانشور کی آنکھ بھی یہ سارا کچھ دیکھ رہی تھی:

؎               بیچتا  ہے  ہاشمی  ناموسِ دینِ مصطفیؐ             خاک و خُوں میں مِل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا وصف انقلاب کی پراڈکٹ کو برآمد کرنا اولیں ترجیح ٹھہری ۔یہ نہ دیکھا گیا ایرانی انقلاب دراصل مغرب و امریکہ کے رویوں اور استحصال کے خلاف ساری ایرانی قوم کی جدو جہد کا حاصل تھا لیکن بہت جلد اسے فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔آج کا ایران جتنا خطرہ بیرونی دشمن اسرائیل و امریکہ (موساد ،آئی ایس آئی) اور خلیجی عرب ممالک (جی ۔سی۔سی)سے محسوس کرتے ہیں اُس کے ہم پلہ داخلی دشمن جو ایک دو میر جعفر اور میر صادق تو ہیں نہیں یہ تو لاکھوں میں ہیں ۔یہ داخلی دُشمن وقتی طور دب تو گئے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل حملوں کے مقابلے میں پے در پے عظیم قربانیوں نے  ایمان کی حرارت کو جہاں بھڑکایا ہے وہیں غداروں کو کھسیانا اور پھسپھسا کر دیا ہے۔

                                 کفر کو چاہیے  ،ایماں کی حرارت کے لیے

                                            (  جاری ہے)


Thursday, 4 September 2025

دریاؤں کا حافظہ About Rivers

دریا بَلا کا حافظہ رکھتے ہیں

بشمول ِ انسان، تمام حیوانات اپنی  یاداشت کھوپڑی میں ہی رکھتے ہیں ،جو کہ جسم کا اوپری حصہ ہوا کرتی ہے۔تاہم دریاؤں کا معاملہ مختلف ہے کہ دریاؤں کا حافظہ کسی گہرے ترین مقام پر محفوظ ہوتا ہے شاید اِس لیے دریا اپنا ہنر خوب جانتے ہیں ۔اپنی سطح پر جھاگ اور ہلکی چیزوں کا جھانسہ دے کر اپنےخزانوں کا چیسٹ جس میں موتی ہوتے ہیں تہ میں چھپائے رکھتے ہیں ۔دریاؤں سمندروں کی اِس نفسیات پر Swiss فنکار Willy Muller نے درست مشاہدہ کیا تھا کہ:

 What can be explained with words is only the waves  , but art has its place underneath the waves in the silent depth of the unspeakable.

 پاکستان  ،بلاشبہ وادئ سندھ کی تہذیب کا اکلوتا وارث ہے ،دریاؤں کی منشا اور نفسیات کو سمجھتے ہوئے ہی ہم اپنی تاریخ کو مرتب کر سکتے ہیں ۔دریا اپنے راستوں اور نقشوں سے بخوبی آگاہ ہیں ۔مغرب نے جب صدیوں تک اپنی نوآبادیات کو قائم رکھا تو یہ سب سمندری علوم ،نقشوں اور راستوں سے آگاہی حاصل کرنے سے ہی ممکن ہوسکا تھا ۔لہٰذا ضرورت ہے کہ ہم بھی تاریخ سے سیکھیں اور دریاؤں کے رستے میں مزاحم ہونے کے بجائے اُن کوراستہ دے کر جینے کی راہ پیدا کریں۔

 سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا                                                                                                                                                                                                                                     

               اتنا مت چاہو اُسے وہ بے وفا ہو جائے گا

 ہم بھی دریا ہیں ،ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے                               

                                          جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا                                                                                                                                            

                 تو نہیں میرا           تو کوئی دوسرا                                ہو جائے گا                                                     (بشیر بدر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔www.khairkhabar.com۔۔۔                                    خان زادہ خان                            (        3 ستمبر 2025)