عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران
امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں
(حصہء دوم) تحریر:
خان زادہ خان
دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران
نے اپنے لیے جو راستہ چنا وہ اُس کا اپنا انتخاب تھا ۔جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے عربوں جنہیں جی سی سی بھی کہا جانے لگا ہے بشمول
مصر مسلسل مغرب ،امریکہ اور اسرائیل نے انہیں آزمائش میں مبتلا رکھا ہے ۔خود مغرب
کی آپس کی لڑائیاں اِس دور میں تھم گئیں جو کئی صدیوں تک گاہے گاہے
سر اُٹھاتی رہتی تھیں ۔ایران کے مقابلے میں عربوں کی موجودہ حیثیت یہ نہ ہوتی اگر
گزشتہ صدی میں ستر کی دھائی میں تیل نہ نکل آتا ۔اِسی تیل نے لڑکھڑاتے ڈالر کو
سہارا دیا نئی معیشت کو Petro-Dollar کا نام دیا گیا ۔جو بریٹن ووڈ معاہدہ (1944) کے وقت گولڈ سٹینڈرڈ
طے پایا تھا۔1960 ء کی دھائی میں فرانس نے امریکہ سے معاہدوں کی وصولی گولڈ میں
طلب کی توامریکہ کو بڑی پریشانی ہوئی کیونکہ ڈالر کا بھانڈا پھوٹنے لگا ۔شاہ فیصل
کو راستے سے ہٹا کر (1975ء) ایک دفعہ پھر امریکہ اپنی معاشی برتری (Petro
Dollar)کی بنا پر سُپر پاور بنا رہا ۔اُس کے بعد سے عرب اپنے دفاع کا ضامن امریکہ
ہی کو سمجھتے چلے آئے ہیں ۔
مسلم دُنیا
بظاہر تو 57 اسلامی ممالک کا بلاک ہے لیکن اپنی بالغ نظری کے اعتبار سے اِس
وقت پاکستان ، ترکیہ ، ملائشیا ،انڈونیشیا اور ایران جی ۔سی۔سی۔ سے زیادہ بالغ نظر ہیں اور عالمِ
اسلام کی سیاسی رہبری کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ تعصبات جو اسلام نے شروع دن سے ہی رد
کر دیے تھے اور نبی کریم ِﷺ نےحجۃ الوداع
میں دورِ جاہلیت کے تعصبات(رنگ ،نسل ،زبان وغیرہ)کی نفی فرمائی تھی اور آنے والے
زمانوں کا منشور واضح فرما دیا تھا۔آج وہ جاہلانہ تعصبات پھر سے زوروں پر ہیں
۔اقبال نے شاعری کے ذریعے جن کی نشاندہی کی ہے :
؎ مدعا تیرا ، اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں
ترکِ دُنیا قوم کو اپنی نہ
سکھلانا کہیں
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زُباں
چھُپ
کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دُکھ جائے تیری تقریر سے
محفلِ نو میں پرانی داستانوں
کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ
آج کا امریکہ جہاں صارفیت کی
سب سےبڑی منڈی ہے داخلی قرض بھی بے حساب ہے لیکن تیس ٹریلین ڈالر کا جی۔این ۔ پی
رکھتا ہے(چین اٹھارہ ٹریلین ڈالر جبکہ روس چار ٹریلین ڈالر )آج بھی اپنے مالیاتی
حجم میں امریکہ سب سے زیادہ ہے ،امریکی
منڈی سے سب سے زیادہ استفادہ کرنے والا (بینیفیشری) خود چین ہے جو کہ امریکی
صارفیت کی اِس منڈی کے لیے پیداواری انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔گزشتہ برس چین امریکہ
تجارت 415 ارب ڈالر رہی ہے ،ایسے میں چین کیونکر کسی کی حمایت میں آئے گا۔اگر
امریکہ کے خلاف کسی ملک کی ہلہ شیری کرے تو یہ الگ بات ہے۔موجودہ ایران امریکہ
تنازعہ میں اِس جنگ کے طول پکڑنے اور " بوٹس آن گراؤنڈ "کی حماقت کرنے
سے چین اورروس کوہ فائدہ ہو سکتا ہے جس کا
کوئی تصور ہی کر سکتا ہے ۔نپولین نے کہا :
Don’t disturb your enemy when
he is making mistakes
ٹرمپ غلطیاں کرنے کے باوجود
روٹی کو چوچی نہیں کہتا ،وہ مسلم دُنیا کے بارے میں وہی ذہنیت رکھتا ہے جو ذہنیت
یہودیوں کی ہےایران جنگ میں اُس نے اسرائیل کے تقاضوں کو نبھایا ہے لیکن اُسے
امریکہ کے داخلی قرض (جو اُس کے جی۔این۔پی۔سے بھی زیادہ ہو رہا ہے)کو ایڈریس کرنے
کے لیے جھنجھوڑے ہوئے یہودی بھی
ہاتھ لگنے والے ہیں ،ایشیا میں اُس کی جو سُبکی ہو رہی ہے اُس کا نزلہ اِسی ٹرمپ
کے ہاتھوں یہودیوں پر پڑے گا۔اسرائیل امریکہ سے کہے گا :
نہیں ، نہیں ،نہیں کر اب وقت نہیں ، نہیں کا
؎ تیری اِک نہیں ،نہیں نے مجھے چھوڑا نہیں
کہیں کا
عام طور پر دنیا چین کے علاوہ روسی انگڑائی کا
بھی طمع رکھتی ہے ،روس بھی اِسی امریکہ کے ہاتھوں یوکرائن جنگ میں مصروف رکھا ہوا
ہے اور اسی جنگ کے طفیل اُس کی معیشت پر بھی PAUSEکا
بٹن دبا ہوا ہے ۔ٹرمپ 2016ء پہلی دفعہ اور پھر 2024ء دوسری دفعہ امریکی صدر منتخب ہو اہے یو ں وہ علی
الترتیب 45 واں اور 47 واں صدر ہے۔دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پروہ دُنیائے عالم کی گلی کا مرزا یار بنتا جا
رہا ہے کہ جس کے لیے کُچھ جٹیاں (جی سی سی وغیرہ)دعائیں مانگ رہی ہیں :
حجرے شاہ مقیم دے
اک جٹی عرض کرے
ہٹی سڑے کراڑ دی
جتھے دیوا نت بلے
کُتی مرے فقیر دی
جیہڑی چؤں چوؤن نت کرے
پنج ست مرن گونڈہناں
رہندیاں نو تپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں
وچ مرزا یار پھرے
چھتیس کھڑب ڈالر کا داخلی بوجھ (قرضہ)ایسا
دباؤہے کہ جٹی کی تمنا بَر آنے کے باوجود بھی مرزا کو سنجی گلیاں بےتاب ہی رکھیں
گی۔اُس کا خیال ہے کہ ندوسری جنگ عظیم کے بعدجونیورلڈ آرڈر اُسی کی مرضی سے ترتیب پایا تھا اور اگر وہ اُس
کو ترک کرنا چاہتا ہے تو یہ بھی اُسی کی مرضی ہے۔
نیتن یاہو پر ایران کے جوابی وار اور آئرن ڈوم
کے ٹیں ٹیں فش ہو جانے کے بعد عام یہودی کے ہونٹوں پر پیپڑی جمنے لگی ہے ۔جن لوگوں
کا سائنس اور مصنوعی ذہانت بارے یہ خیال تھا بٹن دُبائیں گے تو دنیا جیے گی بٹن دبائیں گے تو
دُنیا مرے گی وہ تصور اب پاش پاش ہو گیا ہے ایسے میں بوٹس آن گراؤنڈ کا تجربہ
ویتنام اور افغانستان جنگوں کے تناظر میں اور بھی بھیانک ہوتا جا رہا ہے۔
(جاری ہے)



