google-site-verification: google1333cc5cf8c91f7c.html تعلیم ، معلومات اور تفریح ایک ساتھ www.khairkhabar.com: کہانی : پِھر پُھر(Phir Phur): STORY کہانی : پِھر پُھر(Phir Phur): STORY

Search...

Saturday, 16 May 2026

کہانی : پِھر پُھر(Phir Phur): STORY

ملے جُلے موضوعات جیسے: ٹَرمپ ٹَرِپ اور پِھر پُھر

تاریخ اپنےآپ کو صرف دھراتی ہی نہیں بلکہ ارتقائی عمل ہونے کے باعث پہلے سے بلندی پر بھی لے جاتی ہے۔ 1972 میں امریکی صدر نکسن اور چیئر مین ماؤ کی ایک ہفتہ طویل ملاقات(21 تا 28 فروری)پاکستان کے متحرک سیاستدان ذوالفقار علی بھٹوکی نپی تُلی سیاسی دور اندیشی سے ممکن ہو سکی تھی ۔ٹرمپ ٹرپ کا دروازہ بھی پاکستان کے رستے ہی    سِم  سم کھل گیا گویا کہ :باجو بند کھل کھل جائے

صدر شی نے دو روزہ ٹرمپ ٹرپ (13 تا 15 مئی 26) کے دوران اپنی نفسیاتی کیمسٹری سے واضح تاثر دیا کہ چینی شی انگریزی ہی سے مختلف ہے۔بقول ِ داغ دھلوی:

 راہ پر اُن کو تو لگا لائے ہیں باتوں میں

اور کھُل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں

 یہ بھی تم جانتے ہو چند ملاقاتوں میں

 آزمایا ہے تمھیں ہم نے کئی باتوں میں

تمھیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہہ دو

لطف اِن باتوں میں آتا ہے کہ اُن باتوں میں

ایسی تقریر سنی تھی نہ کبھی شوخ وشریر

تیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں میں

خیر سے داغؔ کی اِس غزل کے سارے اشعار ہی بڑی اچھی ترجمانی کرتے ہیں ۔جہاں تک اور کھلنے کا معاملہ ہے وہ صدر شی کے دورے پر ہی ظاہر ہو گا (ممکنہ :ستمبر 26)

ٹرمپ کے  ٹرپ کے بعد شی ٹرپ کے درمیان گزرنے والے مہینے صحافتی میدانوں میں نفسیاتی رسہ کشی کے مہینے ہیں ۔جو پِھر پُھرکی گردان میں گزریں گے ۔(پِھرپُھر کی تفصیل درج ذیل ہے):

ایک باشاہ بڑا چنگا تھا رعایا بڑی خوش تھی مگر اُس مسٹر ہی کا بیٹا نہیں تھا صرف ایک بیٹی تھی اُس نے سوچا کہ ایک کڑی شرط لگا کر داماد ڈھونڈا جائے اور پھر اِس گھر داماد کو ولی عہد بنا کر نظامِ مملکت سونپا جائے۔شرط یہ رکھی کہ بادشاہ ہر امیدوار سے ایک کہانی سنے گا جس کی کہانی جہاں ختم ہو گئی وہ وہیں پر قتل کر دیا جائے گا ۔ بڑے بڑے کہانی کار شہزادے آئے اور اپنی اپنی گُل و صنوبروں کی کہانیاں سُنا سُنا کر گردنیں کٹواتے چلے گئے ۔ ایک دِن محل کے باہر اپنی بکریوں سمیت ایک گڈریا آیا اور بادشاہ سلامت کے رو برو پیش ہو کر کہانی کا چیلنج پیش کیا ۔بادشاہ نے کہا " ہا ہا ہاہا۔۔ فن فار ایوری وَن۔۔۔ہاہاہا" آنے دو!  بد بخت کو ،آئے گا تو جان سے جائے گا!

گڈریےنے آتے ہی گنڈاسا ایک طرف رکھا اور کہانی شروع کی:

میں نے ایک جال بنایا۔

بادشاہ: (گڈریئے کو گھورتے ہوئے) پِھر؟؟

 گڈریا: میں نے چڑیوں پر ڈالا۔

بادشاہ: (آنکھوں میں تمازت بھر کر) پِھر؟

 گڈریا: جال میں سوراخ تھا۔

 بادشاہ : (جلالی لہجے میں ) پِھر!!!

گڈریا: اُس سوراخ سے چڑیا اُڑ گئی ۔

بادشاہ : (تجسس سے) پِھر۔۔۔۔

 گڈریا :  (بے نیازی سے) پُھر۔۔۔۔

بادشاہ: (گردن ٹیڑھی کر کے) پِھر۔۔؟

گڈریا : (گردن اُٹھا کر ) پُھر۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔Up to Infinity…  

پِھر،پُھر،پِھر،پُھر،پِھر،پُھر۔۔۔۔۔

کہانی بادشاہ کے سوال پر ختم نہ ہوئی اور گڈریا جیت گیا

!! واہ  رے گڈریے

تیری بکریاں دی خیر

اونٹھاں والے ٹر گئے نیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خان زادہ خان     ۔۔16 مئی 2026www.khairkhabar.com۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment