عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران
امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں
(قسط :1)
تحریر : خان زادہ خان
مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے چند
اشعار :
(1) سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
(2) یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں لیکن اب
نقش و
نگارِ طاقِ نسیاں
ہو گئیں
(3) میں
چمن میں کیا گیا ،گویا
دبستاں کھُل گیا بُلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
(4) ہم موحد ہیں
ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم ملتیں جب مٹ گئیں
،اجزائے ایماں ہو گئیں
(5) رنج سے خوگر ہو ا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں
مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
(6) یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں دیکھنا
ان بستیوں کو تم کہ
ویراں ہو گئیں
بقولِ غالب : (1 )زمین سے جو لالہ وگُل اُگتے ہیں عقیدہ
تناسخ (Rebirth)کی رُو سے یہ اُن حسین وجمیل ہستیوں کا دوسرا جنم ہے کہ جن کے
وجود سے کبھی یہ دنیا چمن زار ہوا کرتی تھی ۔
(2) جب انسان کو روزی روٹی کے مسائل گھیر لیں تو
جمالیاتی ذوق پر آنچ پڑتی ہے اور ماضی کی حسین یادیں تک بھول جاتی ہیں ( یہ غزل
1852 ء میں لکھی گئی ہے، تب مغلیہ سلطنت
زوال پزیر تھی ،بہادر شاہ ظفؔر کے استاد شیخ ابراہیم ذوقؔ تھے۔(3) میرے چمن میں آنے سے چمن کی رونقیں (شاعری کی
محفلیں )بحال ہو رہی ہیں میری شاعری گویا کہ دہلی اور ہندوستان کے مشاعروں کو گرما
رہی ہے۔۔ (4) غالبؔ نے یہاں دین اور مذہب کے تصور کو بڑے ہی لطیف اندازِ ریختہ میں
بیان کیا ہے کہ دین کا تمام تر تصور وحدانیت پر اُستوار ہے جبکہ دیگر طور طریقے
ترک کر کے ہی اپنے ایمان کی حفاظت کی جا سکتی ہے ۔(5) انفرادی صدمہ یا رنج اجتماعی صدمے یا رنج سے بھی
گہرا ہوتا ہے،موجودہ زمانے میں دنیا کے دو سوممالک ہیں اور دنیا کی بڑی بڑی
تنظیمیں ٹرمپ کے سامنے بیکار محض اور مجبور محض ہیں گویا کہ ایران
کا غم اُس کا انفرادی غم بنتا جا رہا ہے۔ایسی کیفیت میں اپنے غم سے دوستی
کر کے ہی جیا جا سکتا ہے۔ (6) غالب نے ایک اعتبار سے اپنے رونے دھونے پر تماشہ
کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ میرے آنسوؤں کے سیلاب میں ایک دِن تم بھی بہ جاؤ
گے ۔
ایران میں لالہ وگُل کے موسم میں
یہ نالے غزل خوانی میں ہمیشہ سے ڈھلتے چلے آئے ہیں ، سعدی، رومی، فردوسی،
حافظ اور عمر خیام جیسے شعرا نے اِس چمن
کو تازگی برقرار رکھی لیکن 2026 کا طلوع
ہوا تو مشرق ہی سے ہے لیکن ایران کے لیے قیامت مغرب کی سمت ہی سے وارد ہوئی
ہے۔ بقول انوریؔ :
ہر بلا در آسماں رفت
اولیں خانئہ انوری گفت
(جومصیبت بھی آسمان سے زمین پر
اترتی ہے ، زمین والوں سے پہلا سوال یہی کرتی ہے کہ مجھے انوری کے گھرکا پتہ بتا دو)
آج کا ایران انوریؔ کا گھر بنا
ہوا ہے۔خشکی اور تری پر پھیلا ہوا فساد جو کہ قرآن کی زبان میں انسان کے اپنے ہاتھ
کی کمائی ہے آج غزہ ،لبنان کے بعد ایران کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے ۔
ظھرالفساد فی البر والبحر بماکسبت ایدی
الناس۔۔۔۔۔۔۔ (سورۃ روم آیت 41 )
ایران خشکی اور تری ہر دو کے ذریعے تیرہ
ممالک کے پڑوس کا وسیع تجربہ رکھتا ہے(انقلاب 1979سے قبل و بعد ہر دو ادوار اِس
میں شامل ہیں)۔رشتے اور تعلق بدلے جا سکتے ہیں لیکن فرد کی طرح کوئی ملک نقل مکانی
نہیں کر سکتا کہ وہ پڑوسی بھی بدل سکے ۔ ایران کے خشکی کے پڑوسی : عراق اور ترکی (مغرب)، آرمینیا اور آزربائیجان
(شمال مغرب)،ترکمانستان (شمال مشرق) ، پاکستان اور افغانستان (مشرق)۔اِسی طرح
ایران کے ساحل سمندر کے پڑوسی بحیرہ فارس وعمان سے جڑے کویت ،سعودی عرب ،بحرین
،قطر ،عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں یوں خطے میں (چین 14 پڑوسی کے بعد) سب سے
زیادہ پڑوسی ایران ہی رکھتا ہے۔ یعنی ایران کے اِن پڑوسی مسلم ممالک کی تعداد
(پاکستان کے علاوہ) برادرانِ یوسف جتنی
بنتی ہے۔
؎ آ
رہی ہے چاہ ِ
یوسف سے
صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
13 تا 25 جون 2025ء بارہ دِن کی جنگ نے جہاں بیرونی دشمنوں کو طے
کیا وہیں داخلی دشمنوں نے ایک نقاب کو اتارنے کی ضد کی تھی وہی امریکہ و اسرائیل
کے نقاب میں چھُپ کر گھات لگانے لگے۔
؎
ٹکرائیے ہجوم سے
اور جان جائیے
دیوار کون کون ہے رستہ ہے کون کون
پہلی جنگ ِعظیم کے بعد مجلسِ اقوام (League
Of The Nations)جوں توں کر کے بیس سال نکال گئی ۔دوسری جنگِ
عظیم کے بعد اقوام ِ متحدہ (U.N.O)کو اسی سال کی طبعی عمر ملی اور مجلس اقوام کی طرح جوانی مرگ ہونے
سے بچ گئی۔دنیا کے دو سو ممالک ایک زعم میں ضرور رہے ہیں کہ انہیں اپنی بات
پہنچانے کا ایک فورم (اقوامِ متحدہ) میسر ہے۔لیکن بسا آرزو کہ خاک شدی ۔لکھنوی شاعر (انشااللہ خان انشاء) نے جو بات
تجاہل عارفانہ میں کہی تھی ، صدیوں بعد وہ شاعری امریکی ناقابل
یقیں(ٹرمپ) ببانگِ دُھل کر رہا ہے:
؎ ایک طفل ِ دبستاں ہے فلاطوں میرے آگے کیا
منہ ہے ارسطو جو کرے چوں میرے آگے
کیا
مآل بھلا قصر فریدوں
میرے آگے کانپے ہے
پڑا گنبدِ گردوں میرے آگے
ہُوں
وہ جبروتی ، کہ گروہِ حکماء
سب چڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں
میرےآگے
مُجرے کو مرے خسروِ پرویز ہو حاضر شیریں بھی کہے آکے ّ بلا
لوں میرے آگے ٗ
وہ
مارِ فلک کاہکشاں نام ہے جس
کا کیا
دخل جو بَل کھا کے کرے فُوں میرے آگے
1970 کی دہائی کے بعد سے عشرہ
در عشرہ سرد جنگ کی زد میں آنے والے بیشتر مسلم ممالک ہی تھے اِن میں سے افغانستان کو پرکار کے مرکزی
نقطے کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ :
" دُنیا کے تمام شر کے
پیچھےایک ہی چیز کارفرما ہوتی ہے جس کا
نام جہالت ہے اور اِسی طرح دنیا میں جتنی
خیر ہے اُس کے پیچھے
جو چیز کی کارفرمائی ہوتی ہے اُس کا نام ہے علم"
عصائے کلیم کی عطا بھی اِسی
علم ہی کی مرہونِ منت ٹھہرتی ہے ۔آپ سائنسی علم کے تناظر میں دیکھیں :
؎ وقت کا یہ معجزہ بھی کتنا عظیم ہے کہ دستِ سامری میں عصائے کلیم ہے
ولادیمر لینن (U.S.S.R) نے کیا خوب بات کہی تھی ،جو بے یقینی کے اِس دور میں سچ ثابت ہو
رہی ہے:
There
are decades where nothing happens, and there are weeks where decades happen.
غاؔلب کے نزدیک جس طرح کانٹوں
کی زباں پیاس سے سوکھ جاتی ہے کچھ ایسا ہی حال زمانے کے منہ میں عشروں کی زبان کا
بھی ہو جاتا ہے ۔ ؎ کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
اک آبلہ پا
ا ِس وادئ پُر خار میں
آوے
1979 ء میں وادئ پر خار میں امام خمینی نے آبلہ
پائی کی ۔جس (انقلاب) کے خدوحال بیسویں صدی کے پہلے عشرے سے ہی واضح ہونا شروع ہو
چکے تھے جب بحری جہازوں کا انجن کوئلے سے ڈیزل پر شفٹ ہو رہا تھا۔تب عالمی سامراج
کا نقشہ گر برطانیہ تھا اور سمندروں پر بھی اُس کا راج تھا ۔اولیں تیل ایران سے نکل
آنا اُس کے لیےخوش بختی اور آزمائش ایک
ساتھ لےکر آیا۔برطانیہ کی للچائی ہوئی نظر داخلی سیاست میں رخنہ انداز ہوتی چلی
گئی۔اقبال مغرب سے ایرانی فلسفہ پر پی ایچ ڈی کرکے لوٹے تو اُن کی نظر برطانیہ کے
باطن کو جانتی تھی ۔جوابِ شکوہ کا یہ مصرعہ تناظر مانگتا ہے : تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
ایران نے(عربوں کے مقابلے میں)
اپنی عصبیت کی پخ بھی پال رکھی ہےانہیں ساسانی تہذیب کا بڑا زعم ہے ایرانی محرر
اسلام کی آمد کو بطور اسلامی فتوحات لکھنے
کی نسبت عربوں کے حملے لکھنا زیادہ پسند کرتا ہے۔آج سےایک ہزار سال پہلے فردوسی نے شاہنامہ میں یہی لکھ کر انعام پایا
تھا :
ز
شیر ِ شتر خوردن و سوسمار
عرب را بجایی رسیداست کار
کہ
تاجِ کیانی کند آرزو
تفو بر تو ای چرخ گردوں تفو
فردوسی آسمان کو مخاطب کر کے
یوں طعنہ زن ہوتا ہے: اونٹنی کا دودھ اور سوسمار (گو )کھانے والوں کو
کام مل گیا(کام بن گیا)اور کیانی (ساسانی بادشاہ کا تاج )آرزو کرتاہی رہ گیا۔
عربوں کا تعصب بھی کسی طور کم نہیں ہے کہ وہ
محمد بن قاسم، موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کی فتوحات کو مسلمانوں کی فتوحات کی
جگہ عربوں کی فتوحات لکھ،بول کر تفاخر محسوس کرنے لگے ہیں ۔بیسویں صدی کے پہلے حصے
میں عربوں کو جو خطے ملے اُس میں برطانیہ فرانس کا عمل دخل تھا لہٰذا اُن "
انقلابات" کو برآمد (export) کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی تھی کہ اقبال جیسے دانشور کی آنکھ بھی
یہ سارا کچھ دیکھ رہی تھی:
بیچتا
ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفیؐ خاک و خُوں میں مِل رہا ہے ترکمانِ سخت
کوش
1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد
ایران کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا وصف انقلاب کی پراڈکٹ کو برآمد کرنا اولیں
ترجیح ٹھہری ۔یہ نہ دیکھا گیا ایرانی انقلاب دراصل مغرب و امریکہ کے رویوں اور
استحصال کے خلاف ساری ایرانی قوم کی جدو جہد کا حاصل تھا لیکن بہت جلد اسے فرقہ
پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔آج کا ایران جتنا خطرہ بیرونی دشمن اسرائیل و امریکہ
(موساد ،آئی ایس آئی) اور خلیجی عرب ممالک (جی ۔سی۔سی)سے محسوس کرتے ہیں اُس کے ہم
پلہ داخلی دشمن جو ایک دو میر جعفر اور میر صادق تو ہیں نہیں یہ تو لاکھوں میں ہیں
۔یہ داخلی دُشمن وقتی طور دب تو گئے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل حملوں کے مقابلے میں
پے در پے عظیم قربانیوں نے ایمان کی حرارت
کو جہاں بھڑکایا ہے وہیں غداروں کو کھسیانا اور پھسپھسا کر دیا ہے۔
کفر
کو چاہیے ،ایماں کی حرارت کے لیے
(
جاری ہے)
عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران
امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں
(قسط: 2)
تحریر: خان زادہ خان
دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران
نے اپنے لیے جو راستہ چنا وہ اُس کا اپنا انتخاب تھا ۔جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے عربوں جنہیں جی سی سی بھی کہا جانے لگا ہے بشمول
مصر مسلسل مغرب ،امریکہ اور اسرائیل نے انہیں آزمائش میں مبتلا رکھا ہے ۔خود مغرب
کی آپس کی لڑائیاں اِس دور میں تھم گئیں جو کئی صدیوں تک گاہے گاہے
سر اُٹھاتی رہتی تھیں ۔ایران کے مقابلے میں عربوں کی موجودہ حیثیت یہ نہ ہوتی اگر
گزشتہ صدی میں ستر کی دھائی میں تیل نہ نکل آتا ۔اِسی تیل نے لڑکھڑاتے ڈالر کو
سہارا دیا نئی معیشت کو Petro-Dollar کا نام دیا گیا ۔جو بریٹن ووڈ معاہدہ (1944) کے وقت گولڈ سٹینڈرڈ
طے پایا تھا۔1960 ء کی دھائی میں فرانس نے امریکہ سے معاہدوں کی وصولی گولڈ میں
طلب کی توامریکہ کو بڑی پریشانی ہوئی کیونکہ ڈالر کا بھانڈا پھوٹنے لگا ۔شاہ فیصل
کو راستے سے ہٹا کر (1975ء) ایک دفعہ پھر امریکہ اپنی معاشی برتری (Petro
Dollar)کی بنا پر سُپر پاور بنا رہا ۔اُس کے بعد سے عرب اپنے دفاع کا ضامن امریکہ
ہی کو سمجھتے چلے آئے ہیں ۔
مسلم دُنیا
بظاہر تو 57 اسلامی ممالک کا بلاک ہے لیکن اپنی بالغ نظری کے اعتبار سے اِس
وقت پاکستان ، ترکیہ ، ملائشیا ،انڈونیشیا اور ایران جی ۔سی۔سی۔ سے زیادہ بالغ نظر ہیں اور عالمِ
اسلام کی سیاسی رہبری کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ تعصبات جو اسلام نے شروع دن سے ہی رد
کر دیے تھے اور نبی کریم ِﷺ نےحجۃ الوداع
میں دورِ جاہلیت کے تعصبات(رنگ ،نسل ،زبان وغیرہ)کی نفی فرمائی تھی اور آنے والے
زمانوں کا منشور واضح فرما دیا تھا۔آج وہ جاہلانہ تعصبات پھر سے زوروں پر ہیں
۔اقبال نے شاعری کے ذریعے جن کی نشاندہی کی ہے :
؎ مدعا تیرا ، اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں
ترکِ دُنیا
قوم کو اپنی نہ سکھلانا
کہیں
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زُباں
چھُپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دُکھ جائے تیری تقریر سے
محفلِ نو
میں پرانی داستانوں
کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ
آج کا امریکہ جہاں صارفیت کی
سب سےبڑی منڈی ہے داخلی قرض بھی بے حساب ہے لیکن تیس ٹریلین ڈالر کا جی۔این ۔ پی
رکھتا ہے(چین اٹھارہ ٹریلین ڈالر جبکہ روس چار ٹریلین ڈالر )آج بھی اپنے مالیاتی
حجم میں امریکہ سب سے زیادہ ہے ،امریکی
منڈی سے سب سے زیادہ استفادہ کرنے والا (بینیفیشری) خود چین ہے جو کہ امریکی
صارفیت کی اِس منڈی کے لیے پیداواری انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔گزشتہ برس چین امریکہ
تجارت 415 ارب ڈالر رہی ہے ،ایسے میں چین کیونکر کسی کی حمایت میں آئے گا۔اگر
امریکہ کے خلاف کسی ملک کی ہلہ شیری کرے تو یہ الگ بات ہے۔موجودہ ایران امریکہ
تنازعہ میں اِس جنگ کے طول پکڑنے اور " بوٹس آن گراؤنڈ "کی حماقت کرنے
سے چین اورروس کوہ فائدہ ہو سکتا ہے جس کا
کوئی تصور ہی کر سکتا ہے ۔نپولین نے کہا :
Don’t disturb your enemy when
he is making mistakes
ٹرمپ غلطیاں کرنے کے باوجود
روٹی کو چوچی نہیں کہتا ،وہ مسلم دُنیا کے بارے میں وہی ذہنیت رکھتا ہے جو ذہنیت
یہودیوں کی ہےایران جنگ میں اُس نے اسرائیل کے تقاضوں کو نبھایا ہے لیکن اُسے
امریکہ کے داخلی قرض (جو اُس کے جی۔این۔پی۔سے بھی زیادہ ہو رہا ہے)کو ایڈریس کرنے
کے لیے جھنجھوڑے ہوئے یہودی بھی
ہاتھ لگنے والے ہیں ،ایشیا میں اُس کی جو سُبکی ہو رہی ہے اُس کا نزلہ اِسی ٹرمپ
کے ہاتھوں یہودیوں پر پڑے گا۔اسرائیل امریکہ سے کہے گا :
نہیں ، نہیں ،نہیں کر اب وقت
نہیں ، نہیں کا
؎ تیری اِک نہیں ،نہیں نے مجھے چھوڑا نہیں
کہیں کا
عام طور پر دنیا چین کے علاوہ روسی انگڑائی کا
بھی طمع رکھتی ہے ،روس بھی اِسی امریکہ کے ہاتھوں یوکرائن جنگ میں مصروف رکھا ہوا
ہے اور اسی جنگ کے طفیل اُس کی معیشت پر بھی PAUSEکا
بٹن دبا ہوا ہے ۔ٹرمپ 2016ء پہلی دفعہ اور پھر 2024ء دوسری دفعہ امریکی صدر منتخب ہو اہے یو ں وہ
علی الترتیب 45 واں اور 47 واں صدر ہے۔دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پروہ دُنیائے عالم کی گلی کا مرزا یار بنتا جا
رہا ہے کہ جس کے لیے کُچھ جٹیاں (جی سی سی وغیرہ)دعائیں مانگ رہی ہیں :
حجرے شاہ مقیم دے
اک جٹی عرض کرے
ہٹی سڑے کراڑ دی
جتھے دیوا
نت بلے
کُتی مرے فقیر دی
جیہڑی چؤں چوؤن نت کرے
پنج ست مرن گونڈہناں
رہندیاں نو تپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں
وچ مرزا یار پھرے
چھتیس کھڑب ڈالر کا داخلی بوجھ (قرضہ)ایسا
دباؤہے کہ جٹی کی تمنا بَر آنے کے باوجود
بھی مرزا کو سنجی گلیاں بےتاب ہی رکھیں گی۔اُس کا خیال ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے
بعدجونیورلڈ آرڈر اُسی کی مرضی سے ترتیب
پایا تھا اور اگر وہ اُس کو ترک کرنا چاہتا ہے تو یہ بھی اُسی کی مرضی ہے۔
نیتن یاہو پر ایران کے جوابی وار اور آئرن ڈوم
کے ٹیں ٹیں فش ہو جانے کے بعد عام یہودی کے ہونٹوں پر پیپڑی جمنے لگی ہے ۔جن لوگوں
کا سائنس اور مصنوعی ذہانت بارے یہ خیال تھا
بٹن دُبائیں گے تو دنیا جیے گی بٹن دبائیں گے تو دُنیا مرے گی وہ تصور اب
پاش پاش ہو گیا ہے ایسے میں بوٹس آن گراؤنڈ کا تجربہ ویتنام اور افغانستان جنگوں
کے تناظر میں اور بھی بھیانک ہوتا جا رہا ہے۔
(جاری ہے)
عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران
امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں
(قسط:3)
تحریر: خان زادہ خان
جنگ ،انسانی تاریخ کا لازمہ ہے(War
is constant of history) معلوم انسانی تاریخ کے لگ بھگ 264 سال ہی
ایسے گزرے ہیں کہ جب روئے زمین پر جنگ نہیں ہوئی ۔بڑی جنگیں ہمیشہ بادشاہتوں کے مابین ہوا کرتی تھیں اور میدان مارنے تک
میدان ِجنگ میں جاری رہتی تھیں مفتوح سے ملک ،شہر
یا تاوانِ جنگ وصول ہو جاتا تھا۔اِس میں رعایاکاعمل دخل اتنا ہی ہوتا تھا
کہ اگر بادشاہ ظالم آ گیا توچوری چھپے اُس کے مرنے کی دُعائیں مانگتے تھےاور اگر
مہربان ہے تو اُس کی زندگی کی دعائیں مانگتے تھےانہیں کسی قسم کے دعویٰ سے سروکار نہ تھا ۔شاعری میں بھی اِس کی
جھلک ایسی ہی بنتی تھی:
جنگ میں قتل سپاہی ہوں گے
سرخرو
ظِل الٰہی ہوں گے
ہم لے کر غلط ہتھیار گئے
ہم جیتی
بازی ہار گئے
تقریباً دو صدی ہونے کو ہے جب امریکی جنرل پیری
نے جاپان کو تحکمانہ انداز سے کہا تھا :
Open your
border تب سے اَب تک سمندروں پر امریکہ کا راج چلا
آرہا ہے۔اور دو صدی سے دُنیا اسی فیصد تجارت سمندروں سے ہو رہی ہے۔گذشتہ برس28
فروری 2025ء کو زیلنسکی کا یہ جملہ ٹرمپ کو بہت ناگوار گزرا تھا کہ تو یہ بڑی بڑی
اِس لیے ہانک رہا ہے کہ تیرے اور باقی دنیا کے بیچ بحرِ اوقیانوس حائل ہے ۔جسے
قدیم تاریخ میں بحرِ ظلمات یعنی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا سمندرجس کے پار کولمبس سے
پہلے کوئی نہیں جا سکا تھا ۔موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کی فتوحات (712ء )کے
زمانے میں بھی یہی سمجھا گیا تھا کہ اِس سے آگے اور دُنیا نہیں ہے وگرنہ ہم وہاں
تک بھی جاتے:
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
چین نے نصف درجن راہداریاں (Corridors) بنا کر ایشیا اور یورپ کی تجارت کو بڑی خاموشی سے سمندروں سے
نکال کر خشکی پر ڈالنے کا آغاز کر دیا ہے۔امریکہ کو خشکی پر تڑپتی تجارت ماہئی بے
آب نظر آتی ہے: " یوں بحر سے خالی ہے کہ خشکی پہ پڑی ہے "
ایران حالیہ جنگ سے نلوا بچ نکلنے کے بعد فوری
طورجو جائزے لے سکتا ہے اُن میں سے نصف صدی بعد بھی انقلاب انقلاب کی رٹ لگائے
رکھنے پر غور ہو سکتا ہے کہ اب اس پخ کو
پالنے اور دیگر اسلامی ممالک میں برآمد کرنے سے اُسے فائدہ کم اور نقصان(تنہائی کی
شکل میں) زیادہ ہوا ہے ۔ایران کو بیرونی دشمنوں جتنا چیلنج داخلی "غداروں"
(انقلاب بیزارلوگوں)سے بھی درپیش ہے جو شاہ کے زمانے کی ساواک کے حامی ہیں یہ وہ
تنظیم ہے جو اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعدجب اسرائیل کو سب سے پہلے ایران نے
تسلیم کیا تو موساد (اسرائیلی خفیہ ایجنسی) نے شاہ کو یہ تنظیم (ساواک) بنا کر دی
تھی ۔ اسی طرح ایران نے جہاں جہاں اپنے لیے نائبین (Proxies)پال رکھے ہیں اِن حملوں میں اُنہیں بھی برابر کا نقصان اُٹھانا
پڑا ہے مثال کے طور پر حماس، حزب اللہ، شام ،لبنان ،غزہ،یمن اور عراقی دھڑے جو اُس
کے حمایتی ہیں سب ایک ہی طرح سے مشکل میں ہیں :
غم کھا
تو رہے ہیں ،آنسو پی تو
رہے ہیں
اور جینا کیا ہے ؟ اچھے خاصے جی تو رہے ہیں
ایران کا اٹھارہ لاکھ بربع میل
وسیع جغرافیہ اُس کا تیل ،آبنائے ہرمز ،نو کروڑ کی آبادی اور ایرانیوں کی تعلیمی
حیثیت اور عزم موجودہ ایران کے دوبارہ بحال ہونے کے لیے بڑے امکانات فراہم کرتے
ہیں بڑی جنگوں سے بچ نکلنے یا تدبر سے مقابلے کرنے پر بڑی لیڈرشپ کا انعام بھی ملا
کرتا ہے جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نپولین ،اتاترک اور نیلسن منڈیلا کی شکل میں
ہم دیکھ سکتے ہیں(1857 ء کی جنگ آزادی ناکام ہونے کے باعث ہندوستان ایسی شخصیت
فوری طور نہ دے سکا )۔عالم اسلام کو یہاں سے نئی سیاسی لیڈرشپ بھی مل سکتی ہے:
؎ تہران
ہو گر عالم
مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی
خارجہ پالیسی کو ہمیشہ متوازن رکھا ہے ۔ پاکستان نے برطانیہ و امریکہ سے سفارتکاری
کا جو تجربہ حاصل کیا ہے یہ اُسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو ثالثی کے لیے چُنا گیا
ہے۔حالانکہ یہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے لیکن تا حال پاکستان ایران تعلقات کسی شک
و شبہ کا شکار نہیں ہوئے ہیں : بقول میرؔ
؎ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اِس
کارگہِ شیشہ گری کا
برابر آجانا کمزور کی فتح ہوتی ہے لیکن ڈیڑھ
ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ رکھنے والے امریکہ سے سینگ اڑانا صرف دِل اور دماغ ہی
نہیں بلکہ گردےکا بھی تقاضا کرتا ہے ۔ایرانی قیادت نے پے در پے قربانیاں دے کر
ثابت قدمی دکھائی ہے
اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو ایران اپنی
غلطیوں سے خود بھی سیکھے گا مثال کے طور
پر انقلاب ایران (1979)سےپہلے اور ایک عشرہ بعد تک بھی پاکستان کی قومی اور صوبائی
(خصوصاًسندھ ،پنجاب) میں 80 فیصد منتخب ارکان شیعہ مسلک کے ہوتے تھے جو کہ یقینی
طور سے مسلک کے لحاظ سےایران سے انسیت رکھتے تھے لیکن ایرانی انقلاب کو مسلسل
برآمد کیے جانے سے رد عمل پیدا ہوا اور جھنگوی مولوی انہی علاقوں سے اٹھا اور رفتہ
رفتہ سیاست اور ووٹ پر بھی فرقہ پرستی کی چھاپ نمایاں ہونے لگی پہلی دفعہ Electable کی شکست دیکھی گئی ۔جس کی
مثال فخر امام اور عابدہ حسین جیسے پختہ کار سیاستدانوں کا الیکشن ہارنا تھا جو کہ
باپ دادا کے زمانوں سے جیتتے چلے آئے تھے ۔یہ وہ نقصان ہوا کرتاہے جنہیں فرد یا
قوم غلطیاں کر کے سیکھتے ہیں اور دیگر افراد یا قومیں اُن کی غلطیوں سے مفت میں
سیکھ لیتے ہیں :
ہر چہ کند دانا ،کند نادان ولیکن بعد از
خرابئی بسیار
(جاری ہے)
عالم ِ اسلام کی کیفیت ایران
امریکہ (اسرائیل ) جنگ کے تناظر میں
(آخری قسط )
تحریر: خان زادہ خان
پہلی جنگِ عظیم سے قبل اسلامی دُنیا کے تین
ممالک ہی آزاد ملک ہونے کا دعویٰ کر سکتے تھے (ایران ،ترکی اور افغانستان) ،دیگر
مسلم اقوام سامراج سے آزادی کی تحریکیں شروع کیے ہوئے تھیں ۔مختلف اقوام کو اپنے
اپنے مزاج کے مطابق رہنما میسرتھےاُن سب میں تحریکِ پاکستان کو اِس اعتبار سے
امتیاز حاصل تھا کہ اُس کی قیادت علامہ
محمد اقبال اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ہاتھ تھی جن کی جدوجہد رنگ ،
نسل اور فرقے کی بنیاد پر نہیں تھی۔ اِس تحریک کی تربیت کا معیار علامہ اقبال کے
اِن اشعار سے واضح ہو جاتا ہے:
رہے گا ،راوی و نیل و فرات میں کب تک
ترا
سفینہ کہ ہے
بحر ِ بیکراں کے لیے
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی
کے لیے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک
کاشغر
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت
میں گُم ہو جا
کہ
تورانی رہے باقی ،
نہ ایرانی نہ افغانی
موجودہ عرب ممالک(جی۔سی۔سی۔)کی
آزادی ترکی کے حصے بخرے ہونے کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ۔جبکہ ایرانیوں نے
کسی بیرونی آقا کی نسبت اُن کے اندرونی پٹھو (شاہِ ایران) سے نجات کے لیے ایک
بھرپور جدوجہد کی لیکن یہ تحریک اپنی کامیابی کے بعد جذباتی رُخ اختیار کرتی چلی
گئی ۔ اسرائیل جو کہ عربوں کی کمزوریوں سے
معرض وجود میں آیا وہ اُن کے لیے مسلسل چیلنج بنا رہا ہے ۔سرد جنگ اور اُس کے بعد
کے زمانے میں کبھی بھی یہ خطہ اسرائیل کے لیے چیلنج نہیں بن سکا اور اُلٹا اپنی حکومتی بقا کے لیے اسرائیل کے
سرپرست (امریکہ) سے تحفظ کی امیدیں لگا کربھاری قیمت چکاتا چلا آیا ہے۔ بعض ممالک
تو بہت ہی چھوٹے جثے کے ہیں لیکن عالمی سیاست میں حصہ بقدرِ جُثہ سے ایک قدم آگے نکلے تو بڑی مشکل میں پھنس گئے
ہیں جس کی ایک واضح مثال دُبئی ہے۔پراکسیاں پالنے کا جو تجربہ سرد جنگ کے زمانے سے
چلا آرہا ہے وہ اب ناکامی کے دلدل میں اُترتا جا رہا ہے ۔عرب امارات کے لیے بھی یہ
تجربہ خسارے کا باعث ہی بنے گا۔جو ملک بطورنائب (Proxy) اپنے آپ کو پیش کرتا ہے وہ دراصل اپنا اُلو سیدھا کرنےکے چکر میں
ہوتا ہے ،جب اُس کا مطلب نکل آئے تو وہ اپنے لیے نیا چودھری ڈھونڈنے لگ جاتا
ہے۔حالیہ تاریخ میں افغانستان اِس کی مثال ہے۔ سعودی عرب اپنے رقبے اور سیاست کے
اعتبار سے ایشیا میں اپنی اہمیت میں اضافہ کر رہا ہے کیونکہ پاکستان کا دفاعی معاہدہ
دُور رس اثرات مرتب کرے گا ۔جو سفارتی تجربہ پاکستان نے مغربی نفوذ سے حاصل کیا ہے
۔وہی نفوذ اب سعودیہ کو پاکستان سے بھی حاصل ہو سکے گا ۔عربوں کے لیے اسلامی دُنیا
میں گھُل مِل کر رہنا بہر حال آسان نہیں رہے گا کہ اُن کی بادشاہتیں عوام کو
جمہوری چسکے سے دور رکھنا ہی پسند کریں گی۔جبکہ برطانیہ اور امریکہ پر انحصار کے
مقابلے میں چینی نظام سے مطابقت پیدا کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے چلے جائیں گے۔ایک
قول ہے کہ "بچے گھر میں اور رکشے بازار میں اچھے لگتے ہیں "آج کی دُنیا
میں بادشاہ صرف تاش کے پتوں میں ہی اچھا لگتا ہے ،خود ٹرمپ کے خلاف جو آوازیں مغرب
سے اٹھنے لگی ہیں جوکہ ایک صدی سے امریکہ کا حامی رہا ہے ٹرمپ کے شاہانہ فرمانوں
پر پہلی دفعہ امریکہ سے تحفظات سامنے آنے لگے ہیں۔
موجودہ عرب ریاستیں نخلستانوں،ندیوں اور دریاؤں
کے کنارے آباد نہیں ہیں ،جبکہ قدیم بستیاں وہیں آباد ہوتی تھیں جہاں پانی موجود ہوتا
تھا، برصغیر میں پانی پت کی لڑائیاں اسی لیے مشہور ہیں کہ متحارب فوجیں دریائے
جمنا کے کناروں پر خیمہ زن ہوتی تھیں ۔ایران نے جب چھوٹے جثے والی ریاستوں کو
نشانہ بنایا تو وہاں سے العطش، العطش کی آوازیں اُٹھنے لگیں ۔کیونکہ موجود پانی کا
ذخیرہ صحرا کی ریت میں گم ہونے لگا :
ریت سے بُت نہ بنا میرے اچھے فنکار
ایک لمحہ
کو ٹھہر تجھے
پتھر لا دوں
ایران نے 28 فروری 2026ء سے شروع ہونے والی جنگ
میں قربانیاں دے کر جو کچھ میدان میں حاصل کیا ہے وہ اُسے مذاکرات کی میز پر کھونا
نہیں چاہتا ۔ امریکہ ،اسرائیل گٹھ جو ڑ جس آئرن ڈوم کے حصار میں بیٹھ کر یہ سوچ
رہے تھے کہ اُن کے نظام پر حملہ کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا وہ محض اُن کی
خوش فہمی ثابت ہوئی :
If wishes were
horses , beggars would ride.
اگر خواہشات گھوڑے ہوتے تو اُن پر فقیر سواریاں کرتےپھرتے۔Boots
on ground بھی
کچھ ایسا ہی معمہ بنتا جا رہا ہے ،جب ہندوستان کا کوئی نواب میدانِ جنگ سے بھاگ کر
آجاتا تو ایسے موقع پر کہا جاتا تھا :
نواب آئے ہمارے بھاگ آئے
ہری چند اختر کی ایک ایسی ہی نظم امریکہ کی موجودہ
ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے:
غیر
سیاسی غزل
کہا
ہم چین کو جائیں، کہا تم چین کو جاؤ
کہا
جاپان کا ڈر ہے، کہا جاپان تو ہوگا
کہا
" تہران میں اُتریں !!، کہا تہران
میں اُترو"
کہا
"ایران کا ڈر ہے، کہا ایران تو ہوگا"
کہا
ہم اونٹ پر بیٹھیں، کہا تم اونٹ پر بیٹھو
کہا
کوہان کا ڈر ہے، کہا کوہان تو ہوگا
کہا
سمندر پہ جائیں ، کہا سمندر پہ جاؤ
کہا
طوفان کا ڈر ہے ، کہا طوفان تو ہو گا
کہا
کابل کو جائیں ، کہا کابل کو جاؤ
کہا
افغان کا ڈر ہے ، کہا افغان تو ہو گا
کہا
ویتنام کو جائیں ،کہا ویتنام کو جاؤ
کہا
ہو چی مان کا ڈر ، کہا ہوچی مان تو گا
" بُوٹس آن گراؤنڈ "
کا معاملہ بڑا ہی پیچیدہ ہے ،بقولِ غالب :
تاب
لائے ہی بنے گی غالبؔ
واقعہ
سخت ہے اور جان عزیز
بوٹس
آن گراؤنڈ کی پیچیدگی کے موضوع پر میری نظم اِس طویل مضمون کے اختتام پر آپ کی رائے کی تمنا رکھتی ہے:
تمھارے نئے بوٹوں پر
مبارک
دے نہیں سکتا
کلمہء
ماشاء کہہ نہیں سکتا
کہ
میں مشرق کا امیں
فرق روا رکھتا ہوں
دستار
اور جوتے میں
ہاں
! مگر یاد آیا !
تیرا
چاہنے والااب بھی
چاپ سے اِن کی
مرغوب
ہوئے بن
رہ
نہیں سکتا
تاب
اِن کی سہہ نہیں سکتا
مگر
پھر بھی
میں
مبارک دے نہیں سکتا
اِس
سے پہلے بھی گرد ونواح میں
تمہیں
پہنے ہوئے دیکھا تھا
تمھارے
ارد گرد دُنیا کو
سہمے
ہوئے دیکھا تھا
روایتِ
مشرق سدا رکھتی ہے
لفظ
کے چناؤ میں
فرق
روا رکھتی ہے
میں
کہ ان لفظوں کا امیں
حرمتِ
لفظ کا خوں
اپنے
سر لے نہیں سکتا
تمھارے
نئے بوٹوں پر
مبارک دے نہیں سکتا
تحریر
: خان زادہ خان (16 اپریل 2026)

No comments:
Post a Comment