مَیدو کو لگے دو
یٰسین تہ خطا شو
سڑے کگوشتو
سڑے کگوشتو
یہ 1950 کے زمانے کی بات ہے کہ ہمارے آبائی گاؤں میں کچھ مقامی لوگوں میں لڑائی
ہوئی تھی اور میدو کو دو کلہاڑیاں لگی تھیں جبکہ اُس کا بھائی یٰسین وار خطا جانے
سے بچ نکلا تھا،لوگ کہتے ہیں اُن دِنوں ہمارے گاؤں کی مسجد میں ایک پشتون مجذوب ڈیرہ ڈالے ہوئے تھےجن پر شب و
روز کے کسی لمحے وجد طاری ہو جاتا تھا۔جس روز گاؤں میں یہ وقوعہ ہوا تھا اُس روز
درویش کی طبیعت بڑی بے چین تھی اور وہ مسجد کے صحن میں بیٹھے بیٹھے اُچھلتے ہوئے
یہ سُر الاپتے جاتے تھے : میدوکو لگے
دو :
یٰسین تہ خطا شو: سڑے کگو شتو:سڑے کگوشتو۔
مخالف پارٹی کے جن دو بھائیوں نے یہ کلہاڑیاں چلائی تھیں وہ وہاں سے بھاگ
نکلنے میں کامیاب(کگوشتو) ہو گئے۔اور بنیر کے علاقہ غیر میں کسی خان کے ڈیرے پر
روپوشی میں اُس کی چاکری کرنے لگے ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ کسی چھت کے شہتیر
تلے دب کر مر گئے۔
مجذوب کے کلمات ایک اشلوک یا دوہے
کی شکل اختیار کر گئے۔بچے اور بوڑھے اِس راگ کے اندر چھُپے فلسفے سے بے خبر اِس کے
سروں پر ہی سر دھنتے تھے۔ممکن ہے کہ ہندوؤں کی جنتر منتر بھی اسی طرح کسی خاص
کیفیت میں تخلیق ہوئے ہوں اور بعد میں اُن کے صوتی اثرات سے مستفید ہوتے ہوئے اُنہیں طبی مقاصد کے لیے کام میں لایا جانے لگا
ہو :
ویسے آج کی تاریخ میں کسی نے اپنی شوگر یا بلڈپریشر کی دوا اگر
استعمال نہیں کی ہے تو وہ آج دوا کی جگہ اِس منتر کو آزما سکتا ہے:
: میدو کو لگے دو: یٰسین تہ خطا شو: سڑے کگوشتو: سڑے کگوشتو:

No comments:
Post a Comment