The Pearl سٹین بیک اپنے ناول
میں ایک قصبے کے متعلق لکھتا ہے
"A town is a thing like a colonial animal. A town has a nervous system and a head and shoulders and feet..."
یعنی قصبہ ایک کالونی جاندار ہے - جیسے جیلی فش۔ اس کا اعصابی نظام سست، اجتماعی، اور یادداشت والا ہے۔
اگر اسی استعارے کو ہجوم پر لگائیں تو فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ دونوں زندہ جسم ہیں، لیکن ایک کا نروس سسٹم پیراسیمپیتھیٹک ہے، دوسرے کا سیمپیتھیٹک۔
*1. قصبے کا اعصابی نظام - سٹین بیک والا:*
- *رفتار:* سست۔ خبر صبح چائے کے ہوٹل سے چلتی ہے، دوپہر تک گلی میں، شام تک پورے قصبے میں۔ جیسے جسم میں درد آہستہ پھیلتا ہے۔
- *یادداشت:* لمبی۔ قصبہ 20 سال پرانی دشمنی نہیں بھولتا۔ پرل میں جب کینو کو موتی ملتا ہے تو قصبے کو فوراً یاد آتا ہے کہ اس کا باپ بھی ایسے ہی لالچ میں مارا گیا تھا۔ یہ اجتماعی لاشعور ہے۔
- *ردعمل:* مدافعتی۔ قصبہ باہر کے خطرے کو اندر آنے سے روکتا ہے۔ سٹین بیک کہتا ہے "news came to town like a nervous shudder." قصبہ کانپتا ہے، پھر خود کو بند کر لیتا ہے۔
- *مرکز:* اس کا دماغ چرچ، بازار، اور بوڑھوں کی بیٹھک ہے۔ فیصلہ سوچ کر ہوتا ہے۔
یہ بالکل انسان کے پیراسیمپیتھیٹک نظام جیسا ہے - rest and digest، چیزوں کو ہضم کرنا، برداشت کرنا۔
*2. ہجوم کا اعصابی نظام:*
- *رفتار:* بجلی جیسی۔ قصبے میں خبر دنوں میں پھیلتی ہے، ہجوم میں سیکنڈوں میں۔ ایک ویڈیو، ایک نعرہ، اور پورا جسم ایک ساتھ جھٹکا کھاتا ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی کا ریفلیکس ہے، دماغ تک جانے کی ضرورت نہیں۔
- *یادداشت:* بہت چھوٹی۔ ہجوم کو کل کا وعدہ یاد نہیں، صرف اس لمحے کا جوش یاد ہے۔ سٹین بیک کے قصبے کو موتی کی قیمت یاد تھی، ہجوم کو صرف "لوٹ لو" یاد رہتا ہے۔
- *ردعمل:* جارحانہ۔ قصبہ دفاع کرتا ہے، ہجوم حملہ کرتا ہے۔ قصبے کا اعصابی نظام کہتا ہے "خطرہ ہے، چھپ جاؤ"، ہجوم کا کہتا ہے "خطرہ ہے، مار دو"۔
- *مرکز:* اس کا کوئی دماغ نہیں، صرف اسپائنل کارڈ ہے۔ ایک چیخ، ایک پتھر، اور پورا جسم اسی طرف دوڑتا ہے۔ لیڈر اس کا دماغ نہیں، اس کا ٹرگر ہے۔
یہ سیمپیتھیٹک نظام ہے - fight or flight۔
*3. دونوں کا موازنہ ایک ٹیبل میں:*
*قصبہ:* ایک بوڑھا آدمی ہے جو سب کچھ دیکھ کر آہ بھرتا ہے۔ اسے چوٹ لگے تو وہ سوجتا ہے، پھر آہستہ ٹھیک ہوتا ہے۔
*ہجوم:* ایک نوجوان ہے جسے مرگی کا دورہ پڑا ہے۔ اسے چوٹ لگے تو وہ پورے جسم کو مروڑ دیتا ہے، اور اس مروڑ میں خود کو بھی زخمی کر لیتا ہے۔
سٹین بیک نے پرل میں آخر میں یہی دکھایا - قصبے کا اعصابی نظام آخر میں کینو کو نگل جاتا ہے، اسے واپس غریب بنا دیتا ہے، لیکن بھی قصبہ باقی رہتا ہے۔
ہجوم کا اعصابی نظام اس کے برعکس ہے - وہ جس پر حملہ کرتا ہے اسے بھی جلا دیتا ہے، اور خود بھی جل کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہاں نہ قصبہ بچتا ہے، نہ ہجوم - صرف راکھ۔
اس ساری نفسیات کو سمجھنے کے لیے سمپیتھیٹک اور پیرا سمپیتھیٹک کو مزید جان لینا ضروری ہے
یہ دونوں آپ کے جسم کے اندر ایک ہی تار کے دو بٹن ہیں - ایک گاڑی کا ایکسیلیٹر، دوسرا بریک۔ دونوں آٹومیٹک ہیں، آپ سوچ کر نہیں چلاتے۔
*1. سمپیتھیٹک - جنگ یا بھاگ (Fight or Flight)*
جب خطرہ ہو تو یہ آن ہوتا ہے۔
مثال: آپ رات کو گلی میں جا رہے ہیں، سامنے کتا بھونکتا ہے۔
اس سیکنڈ میں جو ہوتا ہے وہ سمپیتھیٹک ہے:
- دل دھک دھک تیز - تاکہ خون ٹانگوں میں جائے
- آنکھوں کی پتلیاں کھل جانا - زیادہ دیکھ سکو
- منہ خشک - لعاب بند، کیونکہ ہاضمہ فضول ہے اب
- پسینہ آنا - جسم ٹھنڈا رہے دوڑنے کے لیے
- ہاتھ کانپنا - ایڈرینالین
یہ ہجوم والا نظام ہے۔ سوچ بند، ایکشن تیز۔
*2. پیراسیمپیتھیٹک - آرام اور ہضم (Rest and Digest)*
خطرہ ٹل جائے تو یہ آن ہوتا ہے۔
وہی مثال: کتا چلا گیا، آپ گھر آ کر چارپائی پر بیٹھے، پانی پیا۔
اب جو ہوتا ہے وہ پیراسیمپیتھیٹک ہے:
- دل آہستہ - اب بھاگنا نہیں
- لعاب واپس - منہ میں پانی آنا، بھوک لگنا
- آنتیں چلنا - کھانا ہضم ہونا
- نیند آنا - جسم کہتا ہے اب محفوظ ہو
یہ سٹین بیک کے قصبے والا نظام ہے۔ آہستہ، سوچنے والا، جوڑنے والا۔
*ایک ہی دن میں دونوں کی مثال:*
- صبح امتحان کا پرچہ دیکھ کر سمپیتھیٹک آن - ہاتھ ٹھنڈے، دل تیز
- شام کو دوستوں کے ساتھ چائے پیتے ہوئے پیراسیمپیتھیٹک آن - ہنسی، بھوک، سکون
ہجوم ہمیشہ سمپیتھیٹک پر رہتا ہے، اس لیے تھک کر گر جاتا ہے۔ قصبہ ہمیشہ پیراسیمپیتھیٹک پر رہتا ہے، اس لیے زندہ رہتا ہے۔
(خان زادہ خان )

.jpg)

No comments:
Post a Comment