سندیسے تیرے پوروں سے مسلسل نکلیں
چمن سے گاتے ہوئے جیسے کہ
بلبل نکلیں
رات کی رانی،چنبیلی اور
گلاب کے آمیزے سے
نکہتیں ،کوچے میں تیرے
قدموں کاتسلسل نکلیں
حاشیے پہ تیرے لب و رخسار
کی رعنائی کے
ہالہ بن کر
تیرے چہرے کا،کاکل نکلیں
کسی رند کے لب پر نہ رہے
شکوہ باقی
جام پہ جام تیرے خم سے
قلقل نکلیں
تیری بادل سی قبا سے جو
کبھی بارش برسے
خاک پہ سبزہ بچھے اور شاخ
سے گل نکلیں
(خان زادہ خان)

👍
ReplyDelete